تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 516
تاریخ احمدیت - جلد ۶ ۵۰۲ افواہ سمجھا لیکن جب مختلف ذرائع سے یہ خبر پہنچی تو اخبار "الفضل " میں ایک نوٹ دے دیا گیا اور ۲۷/ جون کو سرکاری افسروں کو بھی اس کی اطلاع دے دی گئی۔چیف سیکرٹری انسپکٹر جنرل پولیس اور مقامی حکام کو بھی اطلاع کر دی گئی اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ سازش تھی۔ہماری اطلاعات میں ملی کا بھی ذکر تھا بلکہ کئی آدمیوں کا جو اس سازش میں حصہ لے رہے ہیں ساتھ ہی حملہ کے ذرائع کا بھی ذکر تھا اور غرض بھی بتائی گئی تھی کہ احمدی جوش میں آکر حملہ کریں گے۔اس پر انہیں نیز ان کے ہمدرد حکام کو یہ کہنے کا موقعہ مل جائے گا کہ احمدیوں نے حملہ کیا۔کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ اس طرح فساد کرا کے سیشن جج گورداسپور کے فیصلہ کے خلاف ہم جو اپیل کرنا چاہتے ہیں۔اس کے خلاف مواد مہیا کیا جائے اور چونکہ ہماری پہلی تاریخ میں اس قسم کی کوئی بات نہیں ملتی اور اس کی تائید میں کوئی دلیل نہیں اس لئے نئی دلیل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔پس اس حملہ کا اندازہ اس امر سے نہیں ہونا چاہئے کہ کرنے والا کون تھا اور جس پر کیا گیا وہ کون ؟ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ کس ارادہ کے ماتحت یہ کیا گیا۔یہ حملہ ایک معزز احمدی پر ایک ذلیل آدمی کی طرف سے ہونے کی وجہ سے ہی اس کی اہمیت نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا۔اس کا مقصد یقینا ہی تھا کہ قادیان میں فساد کرایا جائے لڑایا جائے اور جماعت احمدیہ کو بد نام کیا جائے۔وہ لاٹھی جو چلائی گئی وہ اس غرض سے تھی کہ سینکڑوں ہزاروں جسموں پر لاٹھیاں پڑیں پس ان لاٹھیوں کی اہمیت اسی حملہ پر ختم نہیں ہو جاتی۔اگر اتفاقاً اس حملہ کے وقت اور احمد کی ساتھ چل رہے ہوتے یا اگر خود مرزا شریف احمد صاحب ہی جوش میں آجاتے تو وہاں دوسرے احراری بھی بیٹھے تھے فورا ایک قومی لڑائی بن جاتی اور پھر حکومت کے پاس رپورٹ چلی جاتی کہ اس طرح احمدیوں نے حملہ کیا اور بلوہ ہو گیا۔میں تمہارے اندر یہ روح پیدا کرنا نہیں چاہتا کہ اگر کوئی شخص تم کو مارے بھی تو تمہارا بولنا مفاد سلسلہ کے لئے مضر ہے۔جماعتوں میں لوگ پکڑے بھی جاتے ہیں پیٹے بھی جایا کرتے ہیں اور قید بھی ہو جاتے ہیں۔لیکن اس کو نظر انداز کر کے میں جس پہلو کو لے رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اس حملہ کی غرض یہ تھی کہ فساد کر کے جماعت احمدیہ کو بد نام کیا جائے۔اور یہ ثابت کیا جائے کہ جماعت احمد یہ فساد کرتی ہے۔لیکن اللہ تعالی کا ایسا فضل ہوا کہ وہ دشمن جو ہمیں ذلیل کرنا چاہتا تھا دنیا کی نظروں میں ذلیل ہو گیا۔دشمن کی شدید ا نکیحت کے باوجود یہاں امن قائم رہا گویا صیاد نے جو جال ہمارے لئے بچھایا تھا وہ خود اس کا شکار ہو گیا۔جب دنیا کے سامنے یہ بات ، آئے گی کہ اس حملہ سے پہلے ہمیں اس کی اطلاع تھی اور ہم نے حکومت کو اس کی اطلاع دے دی تھی جس نے قطعا کوئی کارروائی نہیں کی۔اور وہ یہ واقعات