تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 507 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 507

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۹۳ کے لئے جانی اور مالی قربانیاں کر کے دکھا ئیں اور ہم بھی اپنے چھپن ہزار افراد کو لے کر مالی اور جانی قربانیاں کرتے ہیں پھر دنیا پر خود بخود ظاہر ہو جائے گا کہ کون اسلام کی محبت کے دعوئی میں سچا ہے اور کون کاذب- کون اپنے مونہہ کی لاف و گزاف سے دنیا کو قائل کرنا چاہتا ہے اور کون عملی رنگ میں اسلام سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کرتا ہے۔مگر احرار کو یہ چیلنج قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی۔احرار کانفرنس سید (عطاء اللہ شاہ بخاری کے نام پر ) جماعت احمدیہ پر مقدمہ عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی صدارت میں ہوئی تھی۔حکومت کی طرف سے ان کی اشتعال انگیز تقریر پر زیر دفعہ ۱۵۳ الف تعزیرات ہند دیوان سکھ آنند صاحب پیشل مجسٹریٹ گورداسپور مقدمہ چلایا گیا جو دراصل جماعت احمدیہ کے خلاف مقدمہ تھا چنانچہ اس دوران میں صدر انجمن احمدیہ کے ریکارڈ منگوائے گئے۔سلسلہ کے بزرگوں مثلاً حضرت مرزا بشیر احمد صاحب " حضرت مرزا شریف احمد صاحب خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر ” الفضل " ملک عبد الرحمن صاحب خادم ، مولوی فضل دین صاحب پلیڈر کو بلا کر بی بی جر میں کی گئیں۔اس مقدمہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بھی عدالت میں گواہی کے لئے بلائے گئے۔حضور کی شهادت ۲۳-۲۵-۲۷ مارچ ۱۹۳۵ء کو تین روز تک جاری رہی۔آخر جب مقصد حاصل ہو گیا اور بزعم خود احمدیت کے راز ہائے سربستہ کو حکومت اور احرار یا ہم مل کر افشاء کر چکے تو عدالت نے مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری کو چھ ماہ قید بامشقت کی سزا دی۔لیکن فیصلہ کے ساتھ ہی بلا توقف ضمانت منظور کرلی گئی اس فیصلہ کے خلاف انہوں نے مسٹر جے۔ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کی عدالت میں اپیل دائر کی۔مسٹر کھوسلہ نے ملزم کے جرم کو محض اصطلاحی قرار دیتے ہوئے تا بر خاستگی عدالت یعنی اند از آپندرہ منٹ تک اپنی صحبت میں بیٹھنے کی سزادی اور اپنے فیصلہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ اور اس کی بزرگ ہستیوں پر سخت شرمناک حملے کئے۔یہ فیصلہ کیا تھا اکتوبر ۱۹۳۴ء کی احرار کانفرنس کا زیادہ بھیانک الفاظ میں خلاصہ اور گالیوں کا پلندہ اور اس کی کارروائی کی صحت پر مہر تصدیق۔نیز اس امر کا اظہار تھا کہ احمد یہ جماعت در حقیقت حکومت کے اندر ایک اور حکومت ہے اور امن عامہ کے لئے خطرہ - احرار نے فیصلہ پڑھا اور اپنی دی ہوئی گالیاں عدالت کے قلم سے سن کر جامے میں پھولے نہ سمائے اسے لاکھوں کی تعداد میں مختلف زبانوں میں شائع کیا احرار کے ترجمان "مجاہد " کے نزدیک اس فیصلہ کی اصل نوعیت کیا تھی اس پر اس کی یہ شہادت کافی روشنی ڈالتی ہے۔"کشمیر تحریک کے قریبی اوقات میں مرزا بشیر الدین کے دماغ میں کچھ ذرا