تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 508
ت - جلد ۶ م سابگاڑ پیدا ہو گیا تھا۔اور حکام صرف یہ چاہتے تھے کہ اگر اس جماعت کے منہ پر بھی ذرا ہلکی سی چپت لگ جائے تو نا مناسب نہ ہو گا۔میری اطلاع ہے کہ مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کی بدولت یہ ہلکی سی چپت قادیانی جماعت کے منہ پر لگ چکی ہے "۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے لکھا۔" حکومت کی پوزیشن بھی اس مقدمہ میں عجیب قابل رحم ہے ہر فریق حکومت کا شا کی ہے۔۔۔۔۔اخبار الفضل قادیان نے صاف صاف لکھ دیا کہ ہم مقدمہ کی ابتداء سے ہی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ مقدمہ عطاء اللہ شاہ کے خلاف نہیں چلایا گیا بلکہ جماعت احمدیہ کے خلاف چلایا گیا۔(۲۶/ اپریل ۱۹۳۵ء صفحه۔۔۔۔۔۔مولوی عطاء اللہ شاہ کی تقریر سے جو نفرت بین الفریقین پیدا ہوئی ہے۔وہ اس نفرت سے بہت کم ہے جو مقدمہ کے اجراء سے ہوئی ہے۔جس کی مرتکب حکومت خود ہے "۔مولوی صاحب نے ایک دوسرے شمارہ میں اس فیصلہ سے متعلق عوامی رائے یہ لکھی کہ حیران ہے کہ یہ سزا کیا ہوئی بلکہ مذاق ہوا"۔خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب نے اس فیصلہ کے سلسلہ میں ۲۱/ جون ۱۹۳۵ء کو گورنر صاحب پنجاب سے ملاقات کی۔کہنے لگے کہ فیصلہ بہت خراب ہے مگر چونکہ حج نے جرم کو برقرار رکھا ہے۔گو سزا کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ کر دی ہے اس لئے عام حالت میں گورنمنہ ، اس میں کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔حضرت خان صاحب نے کہا کہ جو سزا دی گئی ہے وہ جرم کے مقابلہ میں انتہائی مضحکہ خیز ہے اور جج نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پر گندے اور توہین آمیز حملے کئے ہیں۔۔۔۔۔خان صاحب نے کہا کہ ہم خوب سمجھتے ہیں کہ اگر آج تک گورنمنٹ نے ہم پر کسی طرح سے ہاتھ نہیں ڈالا تو اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ گورنمنٹ کا ہاتھ پڑ نہیں سکا۔ورنہ ہمارے ساتھ گورنمنٹ کو کوئی رعائت کرنا مقصود نہیں۔۔۔۔اس ملاقات میں ایک سے زیادہ دفعہ گورنر صاحب نے واضح کیا کہ آپ یاد رکھیں۔اگر کوئی موقعہ آپ لوگوں نے ایسا دیا جس میں کسی قسم کی زیادتی کی گئی تو ہم ضرور گرفت کریں گے۔مسٹر کھوسلہ نے ۶ / جون ۱۹۳۵ء کو یہ رسوائے عالم فیصلہ سنایا تھا۔از روئے قواعد تاریخ فیصلہ کے دو ماہ بعد تک گورنمنٹ اس کے خلاف اپیل کر سکتی تھی کیونکہ گورنمنٹ اس مقدمہ میں مدعی تھی مگر گورنمنٹ نے جس کا ارادہ در پردہ جماعت احمدیہ کو عدالت میں بد نام کرنا تھا۔صرف اپنے متعلق امور ہی پر عدالت عالیہ میں نگرانی دائر کی۔اب ضرورت تھی کہ جماعت احمد یہ خود اپنی اور سلسلہ کے بزرگوں کی پوزیشن صاف کرنے کے لئے قانونی چارہ جوئی کرے۔چنانچہ حضرت مرزا شریف احمد |