تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 505 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 505

۴۹۱ تاریخ احمد بیت - جلد ۶ دیئے گئے اور وہ گھسیٹتے گھسیٹتے مسجد کی سیڑھیوں تک لائے گئے جہاں سے وہ نیچے دھکیل دیئے گئے۔پنڈوری (ضلع گورداسپور) کے ایک احمدی عبد الکریم صاحب اپنی تعمیر کرائی ہوئی مسجد سے نکال دیئے گئے۔For- نارد دال (ضلع سیالکوٹ) میں احمدیوں کے گھروں پر سنگباری کی گئی۔پنڈوری (ضلع جہلم کے احمدیوں کے گھروں پر ساری رات خشت باری کی جاتی رہی۔سید رسول شاہ صاحب نے حضور کی خدمت میں اس کی اطلاع کی تو حضور نے یہ تحریر فرمایا ” میں آپ کو سوائے دعا کے اور کیا مشورہ دوں۔قادیان کو بھی بعض حکام اور احرار نے ہمارے لئے کربلا بنایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو۔اللہ تعالی ہی مدد کرے گا۔بندے کیا حکام اور رعایا کیا ہمارے دشمن بن چکے ہیں۔آسمان و زمین کے مالک کے سوا اب ہماری جماعت پر رحم کرنے والا کوئی نہیں "۔ایک مقام پر بہت سے شورش پسند ایک احمدی مبلغ کے مکان میں گالیاں دیتے داخل ہوئے اور کتابیں اور میسرنا القرآن کے قاعدے (جن میں قرآن مجید کی آیات لکھی ہوتی ہیں) زمین پر پھینک دیئے۔ایک اور احمدی مبلغ کی تمام اشیاء جن میں کپڑے بھی تھے چھین لی گئیں اور ان کا چہرہ سیاہ کر کے ان کو گدھے پر بٹھایا گیا۔20 لگھڑ ( ضلع گوجرانوالہ) میں ایک معمر احمدی اللہ دو ایا صاحب ۵ / اپریل ۱۹۳۵ء کو وفات پا گئے ان کے غیر احمدی رشتہ داروں نے ان کی نعش عام قبرستان میں دفن ہونے سے روک دی۔۳۵۷ آخر ایک احمدی سلطان علی صاحب نے انہیں قبرستان کے پاس اپنی زمین میں دفن کیا۔پنڈی بھٹیاں ضلع گوجرانوالہ) کے مشہور احمدی میاں محمد مراد صاحب بر سر عام بار بار پیٹے گئے فحش گالیاں دی گئیں۔پانی بند ہوا۔پتھراؤ کیا گیا۔دھکے دے کر مسجد سے نکال دیئے گئے اور علی الاعلان قتل کی دھمکیاں دی گئیں - 1 لدھیانہ مخالفت کا گڑھ تھا جہاں احمدی بچے تک بیٹے گئے اور احمدی خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔مئی ۱۹۳۵ء میں یہاں احمدیوں کے خلاف ایک بہت بڑی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک مقرر نے یہاں تک کہا۔" ہم قادیانیوں کو زندہ یا بیمار نہیں دیکھ سکتے۔یہ دشمنان اسلام ہیں ہم انہیں تباہ و برباد دیکھنا چاہتے ہیں"۔سونگڑہ (اڑیسہ) کے احمدی زدو کوب کئے گئے ان کی فصلیں اور باغات کاٹ ڈالے گئے اور -fl