تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 498
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۸۴ دو سرا باب (فصل دهم) درد ناک مظالم کا نیا دور احرار کانفرنس کے بعد سلسلہ احمدیہ کی تاریخ فتنوں اور ابتلاؤں کے ایک نئے اور درد انگیز دور میں داخل ہوتی ہے۔احرار نے اپنی نام نہاد تبلیغ کانفرنس میں احمدیوں کے داخلہ یا اشتہار دلازار لٹریچر کی اشاعت کی تقسیم پر سخت پابندی لگادی تھی لیکن سالانہ جلسہ ۱۹۳۴ء کے موقع پر انہوں نے نہایت ولازار اور گندہ اور اشتعال انگیز لٹریچر شائع کر کے قادیان میں تقسیم کیا۔اس کے بعد ملتان اور جلال پور جٹاں سے بھی بکثرت ٹریکٹ شائع کئے گئے۔یہ ٹریکٹ اگرچہ حکومت نے بعد کو ضبط کر لئے مگر بہت کچھ اشاعت کے بعد ان کی ضبطی فتنہ پردازوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف تھی۔انگریزی حکومت کو سیدنا حضرت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ خلیفتہ اصسیح الثانی کا زبردست انتباه ۱۹۳۴ء پر انگریزی حکومت کو انتباہ فرمایا کہ حکومت کے افسروں کو پولیس اور سول کے حکام کو اور احراریوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ باوجود ان اشتعال انگیزیوں کے جو وہ کر رہے ہیں ہم بالکل پر امن ہیں۔ہمیں جوش آتا ہے اور آئے گا مگر وہ دل میں ہی رہے گا۔ہمیں غیرت آئے گی مگر وہ ظاہر نہ ہو گی۔ہمارے قلوب ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے مگر زبانیں خاموش رہیں گی۔ہاں ایک اور ہستی ہے جو خاموش نہ رہے گی وہ بدلہ لے گی اور ضرور لے گی حکومتوں سے بھی اور افراد سے بھی۔کوئی بڑے سے بڑا افسر کوئی بڑے سے بڑا لیڈر کوئی بڑے سے بڑا جتھا اور کوئی بڑی سے بڑی حکومت اس کی گرفت سے بچ نہ سکے گی۔حکومت انگریزی بہت بڑی اور بہت طاقتور حکومت ہے مگر جو اس کے غدار اور فرض ناشناس حاکم ہیں انہیں وہ خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتی۔وہ ایسے حکام کو بم کے گولوں سے بچانے کا انتظام کر سکتی ہے اور وہ احمدیوں نے چلانے نہیں۔مگر ہیضہ ، قولنج اور طاعون کے حملہ سے وہ