تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 496
تاریخ احمدیت جلد ۷ ۴۸۲ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی گور نر صاحب پنجاب کی طرف سے غلطی کا اعتراف فرماتے ہیں اس زمانہ میں جب پہلی دفعہ یہاں (احرار کا۔ناقل ) جلسہ ہوا۔جو ڈپٹی کمشنر تھا حکومت اس کی ہر بات کی تصدیق کرتی تھی اور ہر موقعہ پر یہی جواب دیتی تھی کہ ہمار ا مقامی افسریوں کہتا ہے مگر تھوڑے دنوں کے بعد اسے اقرار کرنا پڑا کہ وہ غلطی پر تھی۔میں منالی میں تھا کہ مجھے گورنر کی چٹھی ملی کہ میں آپ سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔آپ ملیں۔میں ملا اور متواتر چار گھنٹہ تک گفتگو ہوئی۔مجھ سے انہوں نے کہا کہ آپ ناراض کیوں ہیں؟ اور کس سے آپ کو شکایت ہے میں نے کہا کہ پہلے تو آپ سے شکایت ہے۔انہیں یہ امید نہ تھی کہ میں کہوں گا آپ سے شکایت ہے۔اس کے بعد گفتگو ہوتی رہی اور جب ہوتے ہوتے میں نے ڈپٹی کمشنر کے متعلق واقعات پیش کئے تو کئی جگہ انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ اس نے غلطی کی ہے۔میں نے کہا یہ عجیب بات ہے کہ پہلے تو آپ اس کی ہر بات تسلیم کرتے گئے اور اب مانتے ہیں کہ بعض دفعہ اسے غلط ضمی ہو گئی اور بعض دفعہ حکومت بالا نے اسے مجبور کر دیا “۔نئے ڈپٹی کمشنر کی جدوجہد مصالحت اڑھائی سال کے بعد اس ضلع میں ایک اور ڈپٹی کمشنر مسٹرانز آئے ان کی یہ خواہش تھی کہ میں گورنمنٹ سے جماعت احمدیہ کی صلح کراؤں وہ قادیان میں آئے۔اور مجھ سے ملے بڑی لمبی چوڑی گفتگو ہوئی اور بعض باتیں ان سے طے ہوئیں مثلاً ایک یہ کہ وہ پرانا ریکارڈ نکال کر دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ جماعت احمدیہ کی غلطی تھی۔یا حکام ضلع کی انہوں نے پہلے تو کہا تھا کہ یہ اتنا بڑا طومار ہے کہ اس کا پڑھنا مشکل ہے مگر جب میں نے کہا کہ بہر حال آپ اسے دیکھیں اور ان واقعات کے متعلق اپنی رائے قائم کریں۔اس کے بغیر ہماری تسلی نہیں ہو سکتی۔تو انہوں نے وعدہ کیا کہ آہستہ آہستہ وہ ان مسلوں کو پڑھیں گے بعض حالات کی وجہ سے ان کو جلد یہ ضلع چھوڑنا پڑا۔مگر ہمارے ایک ذمہ دار افسر ان کے جانے سے پہلے جب ان سے ملے تو انہوں نے ان سے کہا کہ میں نے اس وقت تک تین چار کیس پڑھے ہیں ان کے متعلق میری رائے یہی ہے کہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کی غلطی تھی اور آپ حق پر تھے۔افسوس ہے کہ وہ زیادہ دیر اس ضلع میں نہ ٹھہر سکے ورنہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ میں باقی کاغذات بھی پڑھ کر اپنی رائے دوں گا"۔حکومت پنجاب کی جارحانہ پالیسی میں شدت اگر چہ مسٹر نظر سابق نائب وزیر ہند نے بٹلر حکومت ہند کی معرفت حکومت پنجاب کو توجہ دلائی تھی اور حکومت پنجاب نے نوٹس کے بارے میں غلط بیانی a کر کے اپنا پیچھا چھڑایا لیا۔