تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 489
تاریخ احمدیت جلد ۷ ۴۷۵ امر ثابت ہے کہ آدمی خود حفاظتی کے لئے بلائے گئے تھے اور اس جگہ پر جہاں ان کا آناند ہی فرض ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہاں آنے کی بار بار تاکید کی ہے۔اور اس سے حکومت کار و کنانہ ہی مداخلت ہے۔اس جگہ ان کے جن کو بلایا گیا مقدس مقامات ہیں اور ان کی حفاظت کے لئے انہیں اس وقت بلایا گیا جب دشمن ان کے خلاف شورش کرنے کے لئے یہاں جمع ہوئے تھے۔(۷) جو نہی حکام نے انتظامات کی مضبوطی کا یقین دلایا۔انہیں کہہ دیا گیا کہ آدمی نہیں بلائے جائیں گے۔(۸)۱۶ / اکتوبر کو گورداسپور کے حکام کو اس کا علم ہو گیا تھا وہاں ٹیلیفون اور ٹیلیگراف دونوں موجود ہیں لیکن ۷ا کو تین بجے کی گاڑی سے ایک سپیشل انسپکٹر یہ احکام لے کر لاہور سے چلتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں گھنٹے کے وقفہ کے باوجود حکام ضلع گورداسپور نے پنجاب گورنمنٹ کو مطلع نہیں کیا تا حکومت اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوتی۔ان کے لئے لازم تھا کہ ہمارے وعدہ کو حکام بالا تک پہنچا دیتے۔(۹) حکومت کو علم تھا کہ سر کلر جاری کرنے والا ناظر ہے اور جیسا کہ مرزا معراج الدین صاحب نے بیان کیا وہ سر کلر یا اس کی نقل حکومت کے پاس پہنچ چکی تھی خواہ وہ قادیان سے گئی یا با ہر سے۔بہر حال حکومت کو اس کا علم تھا اور یہ بھی وہ جانتی تھی کہ اس کا جاری کرنے والا میں نہیں ہوں۔(۱۰) اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ اس کا جاری کرنے والا میں ہی تھا یا اسے منسوخ کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا تب بھی یہ سول نافرمانی یا حکومت کو تہ و بالا کر دینے والا جرم نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے پہلے کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا۔ڈپٹی کمشنر وغیرہ حکام کی خواہش یہ تھی لیکن حاکم کی خواہش اور حکم میں فرق ہوتا ہے کیا گورنمنٹ اس عام بات کو بھی نہیں سمجھ سکتی کہ یہ قانون حکام کی خواہش کو نہیں بلکہ ان کے احکام کو رد کرنے کے مواقع کے لئے وضع کیا گیا ہے اس حکم کے بعد اگر انکار کیا جاتا۔تو یہ البتہ سول نافرمانی کہلا سکتی تھی لیکن ایس پی یا ڈی سی کی خواہش پر انکار کرنا سول نافرمانی نہیں۔اس صورت میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ تعاون نہیں کیا گیا۔مگر یہ حکومت کو تہ و بالا کرنے والی کوئی صورت نہیں اور اگر حکومت ایسا ہی سمجھتی ہے تو پھر ہمارے یہ شکوک صحیح ہیں کہ یہاں حکومت احراریوں کی ہے یہاں لوگوں کو کسی سرکاری چھاؤنی یا پولیس پر حملہ کرنے کے لئے نہیں بلایا گیا تھا۔اگر مان لیا جائے کہ وہ حملہ کے لئے ہی بلائے گئے تھے تو وہ حملہ احراریوں پر ہو سکتا تھا اور جب تک حکومت یہ قرار نہ دے لے کہ وہ احراری ہے اور جو ان پر حملہ کرتا ہے وہ حکومت پر حملہ کرتا ہے اس وقت تک یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہاں جو لوگ بلائے گئے وہ حکومت کو تہ و بالا کرنے کی غرض سے بلائے گئے تھے۔ان تمام امور کی موجودگی میں حکومت پنجاب نے مجھے ایسا غیر منصفانہ نوٹس دیا اور ایسے قانون کے ماتحت دیا جس میں صاف لکھا ہے کہ یہ سول نافرمانی اور حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشیں کرنے والوں