تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 485 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 485

د جلد ۶ تعلیمی صرف فساد کے لئے تھا"۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے حکومت کے بے مجسٹریٹوں کی مجرمانہ خاموشی انصاف افسروں کے رویہ پرسخت تنقید کی اور فرمایا۔پولیس تو صرف سوٹے کی طرح ہوتی ہے دماغ مجسٹریٹ ہوتے ہیں ان کے سامنے ہتک آمیز اور اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں۔بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کے دوسرے لیڈروں کے متعلق بہت بد زبانی کی گئی۔مگر انہوں نے ہر گز نہیں روکا۔مذہبی حملوں کو اگر جانے بھی دیا جائے تو ذاتی حملے اس قدر تھے کہ مجسٹریوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے تھی۔پولیس اور غیر جانبدار رپورٹروں کی رپورٹوں کو بھی اگر نظر انداز کر دیا جائے۔تو بھی خود ان کے اخباروں میں تقریروں کے جو اقتباس شائع ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر کوئی عقلمند یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے اشتعال انگیزی نہیں کی اور مجسٹریٹوں نے اپنے فرض کو ادا کیا ہے میں نے خود اخبار "احسان" یا "زمیندار" دونوں میں سے کسی ایک میں پڑھا ہے کہ صدر کا نفرنس نے کہا کہ لاؤ مجھے اور مرزا بشیر الدین محمود کو ایک کمرے میں بند کر دو۔اگر صبح تک وہ زندہ رہ جائے تو کہنا اور میں سمجھتا ہوں کہ کوئی مجسٹریٹ جس میں شرافت کی کوئی حس باقی ہے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اشتعال انگیزی نہیں۔کیا یہ صریح قتل کی دھمکی نہیں ؟ کیا یہ الفاظ بھی ان کی سمجھ میں نہیں آسکتے تھے ؟ مگر نہیں ان کے دل خوش تھے کہ احمدیوں کی ہتک کی جارہی ہے اور ان پر الزام لگائے جارہے ہیں۔پھر مجھے حیرت ہے کہ وہی مجسٹریٹ سٹیشن پر یہ کہتا ہوا پایا گیا کہ دونوں فریق میں TOLERANCE ( رواداری) نہیں ہے۔گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہ ہمیں مارتے گالیاں دیتے پھریں ہمیں انہیں اپنے گھروں میں لا کر گھبرانا چاہئے تھا۔اور اپنے مقدس مقامات گرانے کے لئے ان کے حوالہ کر دینے چاہئے تھے تب ہم اس کے نزدیک روادار کہلا سکتے تھے۔اگر کوئی شخص اس مجسٹریٹ کے منہ پر مکا مارے اور اس کے مکان پر جا کر اس کے ماں باپ کو گالیاں دے تو پھر میں دیکھوں کہ اس میں کتنی رواداری ہے"۔٣٠٥ حضرت امیر المومنین کا درس اطاعت اگر یہ کانفرنس کے دوران احمدیوں نے فرمانبرداری اور امن پسندی کا بے نظیر نمونہ دکھایا تھا مگر کانفرنس کے بعد سخت خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ جماعت کا کوئی فرد حضور کی مسلسل تاکید کے باوجود کوئی خلاف آئین حرکت نہ کر بیٹھے۔اس خدشہ کے پیش نظر حضور نے ۲۶/اکتوبر ۱۹۳۴ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا۔" دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔اول ہر شخص جو سلسلہ میں داخل ہے جس نے میرے ذریعہ حضرت