تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 483
تاریخ احمدیت - جلد 4 ۴۶۹ اگرچہ کانفرنس میں اشتعال احمدیوں کی طرف سے صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ امیزیوں ک حد ہو گئی۔مرغدا کے فضل سے کانفرنس کے دوران قادیان میں کوئی ناگوار واقعہ پیش نہیں آیا جس پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا۔"1 باوجود اشتعال انگیزی کے انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا اور سوائے شاذ و نادر کے یا سوائے کسی غلط فہمی کے پیدا ہو جانے کے ان کی طرف سے کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جو میرے لئے موجب شرمندگی اور ان کے لئے موجب پریشانی ہو بے شک ہم ان دنوں میں نہتے تھے۔بے شک حکومت نے اپنے زور اور طاقت سے باوجود اس کے کہ یہ ہمارا گھر تھا ہمیں خود حفاظتی کی تدابیر سے محروم کر دیا تھا۔پھر بھی میں جانتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بچے اور مخلص ممبر خدا تعالی کے فضل سے شیر ہیں اور شیر بغیر ہتھیاروں کے ہی لڑا کرتا ہے میں نے سلسلہ کے مصالح کے لحاظ سے آپ کی زبانیں بند کر دی تھیں۔آپ کے ہاتھ باندھ دیئے تھے۔لیکن باوجود اس کے میں جانتا ہوں کہ آپ کے دل اخلاص اور اس محبت کے وفور کی وجہ سے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اور سلسلہ سے ہے ایسے جوش سے پر تھے کہ جس کے سامنے دنیا کی کوئی دیوار اور کوئی قلعہ ٹھہر نہیں سکتا۔آپ کی فرمانبرداری ذلت اور بے چارگی کی فرمانبرداری نہیں تھی بلکہ طاقت کے ساتھ فرمانبرداری تھی"۔" تبلیغ کانفرنس" پر حضرت خلیفتہ سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو ایک پر شوکت خطبہ جمعہ المسیح الثانی کا حقیقت افروز تبصره میں کانفرنس پر مفصل تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ - " حقیقت یہ ہے کہ یہ تبلیغی جلسہ نہ تھا اور یہ ایسی واضح بات ہے کہ گورنمنٹ کے لئے بھی اس کا سمجھنا مشکل نہ تھا۔کیونکہ اس کا حکم تھا اور اس نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ کوئی احمدی ان کے جلسے میں نہ جائے اور تبلیغ ہمیشہ دوسروں کو کی جاتی ہے۔اگر احمدیوں کو وہاں جانے کی ہی اجازت نہ تھی تو تبلیغ کسے کرنی تھی؟ حکومت کا ہم سے یہ مطالبہ کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ تبلیغی جلسہ نہ تھا۔پھر جلسہ کی دوسری غرض تربیت ہوتی ہے تربیت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کوئی بڑا عالم اس جگہ ہو یا وہ اس تحریک کا مرکز ہو۔لوگ ایک وقت میں وہاں جمع ہوں اور اکٹھے فائدہ اٹھا سکیں۔اور ایک مقررہ وقت پر آکر باتیں سن جائیں جیسا کہ ہمارا جلسہ سالانہ ہوتا ہے۔یہاں خلیفہ وقت۔دوسرے ذمہ دار کارکن اور لیڈر ہوتے ہیں جو جماعت کو اپنے اپنے خیالات تعلیمی سے مستفید کرتے ہیں۔خلیفہ ساری