تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 482
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۶۸ مصیبت کا سبب میاں سر فضل حسین کی سیاست ہے میاں صاحب نے مختلف حیلوں سے مسلمانان ہند کی سیاست تباہ کی۔اب وہ ان کا مذہب تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔لیکن مسلمان اب بیدار ہو چکے ہیں وہ میاں صاحب کو اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہونے دیں گے "۔مولوی ظفر علی خان صاحب نے ایک لمبی اور پر جوش تقریر میں کہا کہ۔میں کونسلوں، میونسپلٹیوں اور اسمبلی میں داخلہ کا سخت مخالف ہوں۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے ادارہ میں مرزائی نظر نہ آئیں۔میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے ووٹوں پر کوئی ممبر مرزائی نہ ہو۔ان دجالوں کا پورا پورا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔آج مسلم لیگ اور مسلم کانفرنس میں مرزائیوں کی کثرت ہے۔مسلم کانفرنس کا صدر سر فضل حسین مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا اور ظفر اللہ قادیانی کا تقرر کرنے والا ہے۔مسلمانو! ان مار آستین جماعتوں سے بچو۔اور ان فریب کار جماعتوں کو اپنا نمائندہ نہ سمجھو اور نہ یہ جماعتیں مسلمانوں کی نمائندہ ہو سکتی ہیں لہذا میں حکومت کو ان ستر ہزار فرزندان توحید کی طرف سے بتا دینا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت صرف احرار ہے۔اور کوئی نہیں ہو سکتی۔اخبار ”سیاست " اور " تبلیغی کانفرنس» اخبار "سیاست" نے احرار کانفرنس پر " مندرجہ ذیل نوٹ لکھا۔تبلیغ کے معنے آج تک تو یہ سمجھے جاتے تھے کہ محبت اور آشتی سے دلائل پیش کر کے کسی کو اپنا ہم خیال بنایا جائے لیکن تبلیغ کے یہ معنے کہ کسی گروہ کو گالیاں دے کر مشتعل کیا جائے۔اب احرار کی مہربانی سے واضح ہوئے ہیں۔چونکہ ہم قادیان میں احرار کی تبلیغ کا نفرنس کے انعقاد کو مفاد ملت کے خلاف سمجھتے تھے اور اس کو انتخاب اسمبلی کا پروپاغنڈہ جانتے تھے۔لہذا اس کے اعلان میں ہم نے کوئی حصہ نہیں لیا۔ہمارا نمائندہ وہاں موجود تھا اور اس کی رپورٹ بھی موصول ہوئی۔لیکن اس خیال سے کہ اس کی اشاعت احرار کی اکثر غلط بیانیوں کا پول کھول دے گی۔اور ہم میں اور ان میں غیر ضروری کشمکش پیدا کر دے گی اس لئے اس کو بھی شائع نہیں کیا گیا۔لیکن افسوس ہے کچھ ہماری اس روش کی غلط تاویل کی جارہی ہے اور ہم یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ۔(1) قادیان میں جو کانفرنس تبلیغ کے نام سے منعقد ہوئی۔اس میں احرار کے نامور لیڈروں کے سوا کوئی ذی عزت مسلمان شامل نہیں ہوا۔(۲) حاضرین کی تعد ادر و زاول ۱۵ ہزار کے قریب تھی اس کے بعد حاضری بہت کم ہو گئی آخر میں ۵ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔