تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 481
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ -r فرعونی تخنت الٹا جا رہا ہے۔انشاء اللہ یہ تحنت نہیں رہے گا۔وہ نبی کا بیٹا ہے۔میں نبی کا نواسہ ہوں۔وہ آئے تم سب چپ چاپ بیٹھ جاؤ۔وہ مجھ سے اردو پنجابی فارسی میں ہر معاملہ میں بحث کرے۔یہ جھگڑا آج ہی ختم ہو جائے گا۔وہ پردے سے باہر آئے۔نقاب اٹھائے۔کشتی لڑے۔مولی علی کے جو ہر دیکھے۔وہ ہر رنگ میں آئے۔وہ موٹر میں بیٹھ کر آئے۔میں ننگے پاؤں آؤں وہ ریشم پہن کر آئے۔میں گاندھی جی کی کھلڑی کھدر شریف۔وہ مز عفر- کباب یا قوتیاں اور پلومر کی ٹانک وائن اپنے ابا کی سنت کے مطابق کھا کر آئے اور میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق جو کی روٹی کھا کر آؤں۔یہ ہمارا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ برطانیہ کے دم کے کتے ہیں وہ خوشامد اور برطانیہ کے بوٹ کی ٹو صاف کرتا ہے۔میں تکبر سے نہیں کہتا بلکہ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھ کو اکیلا چھوڑ دو۔پھر بشیر کے اور میرے ہاتھ دیکھو۔کیا کروں لفظ تبلیغ نے ہمیں مشکل میں پھنسا دیا ہے۔یہ اجتماع سیاسی اجتماع نہیں ہے او مرزا ئیو! اگر باگیں ڈھیلی ہوتیں۔میں کہتا ہوں اب بھی ہوش میں آؤ۔تمہاری طاقت اتنی بھی نہیں جتنی پیشاب کی جھاگ ہوتی ہے۔جو پانچویں جماعت میں فیل ہوتے ہیں وہ نبی بن جاتے ہیں ہندوستان میں ایک مثال موجود ہے کہ جو فیل ہوا وہ نبی بن گیا۔او مسیح کی بھیڑو ! تم سے کسی کا ٹکراؤ نہیں ہوا۔جس سے اب سابقہ ہوا ہے یہ مجلس احرار ہے اس نے تم کو ٹکڑے کر دیتا ہے۔او مرزائیو! اپنی نبوت کا نقشہ دیکھو۔اگر تم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو نبوت کی شان تو رکھتے۔اگر تم نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا تو انگریزوں کے کتے تو نہ بنتے۔کانفرنس میں سر فضل حسین صاحب اور چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف قرار داد بھی پاس کی گئی جو مشہور کانگریسی عالم " قومیت متحدہ" کے علمبردار اور ملت از وطن است" کے حامی مولوی حسین احمد صاحب مدنی نے پیش فرمائی۔اس قرار داد کے آخری فقرات یہ تھے۔اس کانفرنس کی رائے میں حکومت کے اس فیصلہ میں کہ وائسرائے کی مجلس منتظمہ میں مسلمانان ہند کے شدید احتجاج کے باوجود چودھری ظفر اللہ کو مقرر کیا جائے سر فضل کے مشورہ اور مساعی کو بڑا دخل ہے جو اسلام کے ساتھ کھلی ہوئی غداری ہے۔یہ کانفرنس سر فضل حسین کے اس فعل کو نہایت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے اور اس کے خلاف اپنے عدم اعتماد کا اظہار کرتی ہے' -4 744 ft اس قرارداد کی تائید میں مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی نے کہا۔”ہماری اس ساری