تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 476 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 476

تاریخ احمدیت جلد ۶ " مجلس احرار قادیان ضلع گورداسپور میں والنٹیر جمع کر کے بھیج رہی ہے جہاں احمدیت کی مخالفت کے لئے احرار کا نفرنس کر رہے ہیں۔قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اور دونوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے نقض امن کے خطرہ کو محسوس کرتے ہوئے پنجاب گورنمنٹ نے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں۔امر تسر سے ایک مجسٹریٹ دیوان ہرونش لال کو وہاں سپیشل ڈیوٹی پر متعین کیا گیا ہے۔اور چار سو کی تعداد میں پولیس فورس بھیجی گئی ہے انسپکٹر جنرل پولیس اور کمشنر لاہور ڈویژن قادیان جا کر تمام انتظامات کا ملاحظہ کر آئے ہیں۔ہر قسم کے اسلحہ جات حتی کہ لاٹھیوں کا رکھنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔امر تسر اور بعض دیگر مقامات پر جب احمدیوں نے جلسہ کرنا چاہا تو احرار کی طرف سے فساد پیدا کیا جاتا رہا ہے اور ابھی گزشتہ موسم سرما کا ہی واقعہ ہے کہ امرتسر میں ایک درجن احمدیوں کو زخمی کر دیا تھا جبکہ وہ ایک جلسہ منعقد کر رہے تھے۔(ترجمہ) احمدیوں کے ” تبلیغ کا نفرنس میں جانے کی ممانعت یہ کانفرنس اگرچہ جماعت احمدیہ کے خلاف کی جارہی تھی اور حکومت کے افسر اس کی پشت پناہی کر رہے تھے۔مگر جماعت احمدیہ نے اس موقعہ پر بھی قیام امن کی گزشتہ روایات قائم رکھتے ہوئے ارباب اقتدار سے تعاون کیا۔حکومت کے افسروں نے حکم دیا کہ کسی احمدی کو احراری کا نفرنس میں نہیں جانا چاہئے لہذا اس کے مطابق قادیان کے سب محلوں کے بورڈوں پر نہ صرف یہ تاکیدی ہدایت لکھ دی تھی بلکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ اس ہدایت کی خلاف ورزی کرنے والا شخص جماعت سے خارج کر دیا جائے گا۔Rai حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی 19 اکتوبر ۱۹۳۴ء کو جمعہ تھا۔اس روز حضرت طرف سے صبر و تحمل کا مطالبہ امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی نے احرار رض کانفرنس کے باعث پیدا شدہ صورت حال پر روشنی ڈالی اور جماعت سے صبر و تحمل کا مطالبہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔آپ لوگ احمدی کہلاتے ہیں۔آپ لوگوں کا دعوئی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی چیدہ جماعت ہیں۔آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے مامور پر کامل یقین رکھتے ہیں۔آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے آپ نے اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر رکھے ہیں اور آپ لوگوں کا دعوی ہے کہ ان تمام قربانیوں کے بدلے اللہ تعالٰی سے آپ لوگوں نے جنت کا سودا کر لیا۔یہ دعویٰ آپ لوگوں نے میرے ہاتھ پر دہرایا۔بلکہ آپ میں سے ہزاروں انسانوں نے اس عہد کی ابتداء میرے ہاتھ پر کی ہے کیونکہ وہ میرے ہی زمانہ میں احمدی ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے باپ۔