تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 472 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 472

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۵۸ مرزا معراج الدین صاحب نے کہا کہ میں خود اس مضمون کی طرف آنا چاہتا تھا۔میں نے سنا ہے کہ آپ نے باہر سے کچھ آدمی بلوائے ہیں؟ اور ایک ایسی تحریر حضور کو دکھائی۔حضرت اقدس نے جواب دیا کہ ” میں نے ایسی ہدایت آج بارہ بجے دو پر جاری کی ہے۔آپ تک یہ کیسے پہنچ گئی ؟" پھر حضرت مرزا شریف احمد صاحب سے پوچھا کہ آپ کے پاس میری ہدایت پہنچی ہے ؟ اس پر انہوں نے جیب سے اصل ہدایت جس پر تاریخ اور وصولی کا وقت بھی درج تھا نکال کر دکھادی۔مرزا معراج الدین صاحب نے کہا کہ اگر میں اپنے طور پر سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس اور ڈپٹی کمشنر صاحب سے مل کر پولیس کا خاطر خواہ انتظام کر دوں تو کیا پھر بھی آپ کو باہر سے آدمی بلانے کی ضرورت ہوگی ؟ حضور نے فرمایا کہ یہاں کی مقامی پولیس کو تو میں احراریوں سے بھی بد تر سمجھتا ہوں ان لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ اگر ہم میں سے کسی کو احراری قتل بھی کر دیں تو پولیس والے یہی کہیں گے کہ ان کے پچاس آدمی احرار پر حملہ آور ہوئے تھے اور انہوں نے خود حفاظتی کے طور پر قتل کر دیا ہے اور اس طرح ہمارے ہی آدمیوں کو گرفتار کریں گے انہوں نے کہا کہ میں یہ انتظام کرانے کی کوشش کروں گا کہ انگریز افسر یہاں رہے اور اس کے ساتھ آپ کا ایک آدمی رہے۔آپ مرزا شریف احمد صاحب کو میرے ساتھ بھیج دیں۔میں ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس سے بات چیت کرلوں اور اگر وہ یہ تجویز منظور کرلیں تو آپ یہ حکم جاری نہ کریں۔حضرت امیر المومنین نے اس سے پوری طرح اتفاق کیا۔اور حضرت صاحبزادہ صاحب کو ان کے ساتھ جانے کے لئے ارشاد فرمایا۔مگر شام کے وقت حضور کو اطلاع پہنچی کہ صاحبزادہ صاحب ابھی قادیان میں ہی ہیں۔حضور نے صبح سویرے ہی ان کو بلوا بھیجا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے بتایا کہ معراج الدین صاحب کہہ گئے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر صاحب کے ہاں آج شب میرا کھانا ہے۔گیارہ بارہ بجے اگر کھانے سے فارغ ہوئے تو اس وقت کیا باتیں ہوں گی۔میں خود ہی ان سے بات چیت کر کے آپ کو مطلع کردوں گا۔اور جب آپ کو اطلاع پہنچ جائے کہ آپ کے حسب منشاء تسلی بخش انتظامات ہو گئے ہیں تو آپ باہر سے آدمی نہ بلا ئیں۔اس کے ساتھ ہی حضرت صاحبزادہ صاحب نے یہ بھی عرض کیا کہ مرزا معراج الدین صاحب کے جانے کے بعد ایک غلطی معلوم ہوئی ہے اور وہ یہ کہ قائم مقام ناظر امور عامہ نے از خود ضلع گورداسپور کی بعض جماعتوں کے ذمہ کچھ تعداد لگائی ہے۔کہ اتنے آدمی یہاں بھیج دیں۔حضور نے فرمایا۔یہ تو بڑی غلطی ہوئی ہے ناظر امور عامہ کو چاہئے تھا کہ جب اس کام کو ان کے صیغہ سے علیحدہ کر کے اس کے لئے ایک علیحدہ افسر مقرر ہو چکا ہے تو وہ خود دخل نہ دیتے۔بہر حال حضور نے ارشاد