تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 471 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 471

تاریخ احمد بیت - جلد 4 ۴۵۷ مرزا ا معراج الدین صاحب سپرنٹنڈنٹ سی آئی ڈی لاہور کی ملاقات تین بجے کے قریب پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے حضور کی خدمت میں اطلاع دی کہ مرزا معراج الدین صاحب سپرنٹنڈنٹ ہی۔آئی۔ڈی لاہور کسی کام سے یہاں آئے ہیں اور ملنا چاہتے ہیں اس پر حضرت امیرالمومنین نے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کو کہلا بھیجا کہ آپ مرزا معراج الدین صاحب کو ساتھ لے آئیں۔ان کے آنے پر حضور نے مرزا معراج الدین صاحب سے دریافت فرمایا کہ آپ کیسے تشریف لائے ؟ انہوں نے جواب دیا میں سرکاری کام سے گورداسپور آیا تھا۔خیال آیا کہ قادیان میں ہو تا جاؤں اسی اثناء میں گفتگو کا رخ خود بخود احراریوں کی طرف پھر گیا۔حضور نے پوچھا کہ آپ کس حیثیت سے گفتگو کر رہے ہیں ؟ سپرنٹنڈنٹ ہی۔آئی ڈی کی حیثیت سے یا مرزا معراج الدین صاحب کی حیثیت سے ؟ انہوں نے یقین دلایا کہ میں محض ذاتی حیثیت سے ملنے آیا ہوں۔حضور نے ان سے یہ بھی دریافت فرمایا کہ جب گورداسپور سے آپ کا تعلق نہیں تو وہاں کیسے آئے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مرکز کو فکر بہر حال ہوتی ہے اور میں دریافت احوال ہی کے لئے آیا تھا۔حضور نے دوران گفتگو میں فرمایا کہ حکومت کی طرف سے ہماری مخالفت کی جارہی ہے۔کہنے لگے کہ میں آپ کو اپنے تجربہ کی بناء پر کہ سکتا ہوں کہ اس معاملہ میں حکومت بالکل نیوٹرل (غیر جانبدار ہے۔حضور نے بتایا کہ ہمارے یہاں تو یہ نہیں ہو رہا۔بلکہ حکام کا ایک حصہ احرار کی طرفداری کر رہا ہے اس موقعہ پر حضور نے پھر ہنس کر پوچھا کہ کیا آپ سپرنٹنڈنٹ سی۔آئی۔ڈی کے طور پر تو گفتگو نہیں کر رہے ؟ انہوں نے دوبارہ اس سے انکار کیا اور کہا کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ میری یہ ملاقات محض انفرادی نوعیت کی ہے۔یہ جواب سن کر حضور نے مقامی حکام کے طرز عمل کا تفصیل سے تذکرہ کرنے کے بعد بالا خر فرمایا ”ہم پر تو یہ اثر ہے کہ اس وقت اس علاقہ میں احرار کی حکومت ہے ان کے جھوٹ کو بھی سچ سمجھا جاتا ہے اور ہمارے آدمیوں کے سچ کو بھی جھوٹ قرار دیا جاتا ہے۔آپ حکومت کو نیوٹرل بتاتے ہیں کاش وہ نیوٹرل ہوتی۔لیکن وہ تو احرار کی مدد کر رہی ہے۔اسے یا تو نیوٹرل رہنا چاہئے اور یا پھر ہمیں احراریوں کے رحم پر چھوڑ کر الگ ہو جانا چاہئے۔یہ کیا طریق ہے کہ ایک طرف تو وہ ہمارے ہاتھ باندھتی ہے اور دوسری طرف ان کو سر پر چڑھاتی ہے اور ہمیں قانون میں جکڑ کر ان کے آگے پھینکتی ہے۔اگر وہ نیوٹرل نہیں رہ سکتی تو بے شک ان کے رحم پر ہمیں چھوڑ دے اور اگر احراری ہم سب کو بھی قتل کر دیں گے تو ہم کبھی حکومت کا شکوہ نہیں کریں گے "۔