تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 470 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 470

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۵۶ روک سکتے ہیں۔میں نے کہا یہی دلیل ہمیشہ دی جاتی ہے ہمیں جلسوں میں برا بھلا کہا جاتا ہے اشتعال دلایا جاتا ہے۔جمع ہونے والوں پر کسی طرح قابو نہیں ہوتا اس لئے ہمیں سخت خطرہ ہوتا ہے کہ ہمارے مقدس مقامات پر۔۔۔۔۔حملہ نہ کر دیا جائے۔چنانچہ مزار مبارک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام) کی چار دیواری کا سبب بیان کیا۔اور بتایا کہ اگر جلسہ ہوا تو ہمیں خود حفاظتی کا انتظام کرنا ہو گا۔کہنے لگے آپ بے شک ایسا کریں۔آپ کی طرف سے کسی قسم کی زیادتی نہ ہونی چاہئے۔میں نے کہا۔اس طرف سے آپ اطمینان رکھیں ہماری طرف سے نہ پیش قدمی ہوگی نہ زیادتی۔اسلام کا قانون بھی ان کو بتایا کہ باوجود یہ کہ نیم لشکر کے ساتھ چڑھائی کر کے آیا ہو ہمارے لئے پھر بھی یہی حکم ہے کہ جنگ اور حملہ کی ابتداء د شمن کی طرف سے ہونی چاہئے۔پھر میں نے پہلی ملاقات کے تسلسل میں مجلس مشاورت کی روئداد میں سے وہ حصے سنائے جن میں حضور نے فرمایا تھا کہ احمدیہ کو ر سے جلسوں کے نے فرمایا یہ کور انتظامات کے لئے کام لیا جائے گا۔میں نے کہا اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ احمدیہ کو رکبھی سرکار کے مقابلہ میں آئے گی تو یہ بدظنی نہیں تو اور کیا ہے؟ کہنے لگے ہمارا صرف یہ خیال ہے کہ ایک حد تک بے شک آپ کو اختیار ہے کہ آپ اپنی جماعت کا انتظام کریں۔اس کے جھگڑے نپٹا ئیں۔مگر ایسی چیزوں میں دخل نہ دیں جو سرکاری حق ہے۔توجہ سے سنتے رہے اور پھر یہی مشورہ دیا کہ آپ حکام ضلع سے زیادہ ملتے رہا کریں تا ان کو آپ کا ہر پہلو معلوم ہو تا رہے۔میں نے کہا میں دو دفعہ ڈپٹی کمشنر اور کپتان پولیس دونوں سے ملا ہوں۔ان کے کان ہمارے خلاف بھرے جارہے ہیں۔ان سے کہا جاتا ہے کہ ہم ان کو چھوٹے افسر سمجھتے ہیں اور ان سے ملنا پسند نہیں کرتے۔حالانکہ میں نے ان کو دعوت دی ہے کہ قادیان میں قیام کریں اور ہم چاہتے ہیں کہ قادیان میں تھانہ بن جائے۔تا ایک سینئر افسر وہاں رہ سکے۔اس بات کو صاحب موصوف نے تسلیم کیا کہ حکام ضلع کہتے ہیں ہم کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ قادیان میں کیا ہو رہا ہے۔میں نے کہا ہمیں جو بات پوچھیں ہم اس کو راستبازی کے ساتھ بیان کریں گے کیونکہ ہر شخص احمدیت میں پاکیزگی نفس حاصل کرنے کے لئے شامل ہوتا ہے۔اس ملاقات کے بعد حالات نے جلد ضلع گورداسپور سے احمدی بلوانے کی ہدایت جلد پلٹے کھائے اور ۱۵ اکتوبر ۱۹۳۴ء کے قریب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بہت سے ایسے خطوط موصول ہوئے۔جن میں ذکر تھا کہ احرار کانفرنس کے ایام میں فساد کا بہت خطرہ ہے اس پر حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ناظم شعبہ خاص کو ہدایت فرمائی کہ اس موقعہ پر خود حفاظتی کے طور پر ضلع گورداسپور سے دو ڈھائی ہزار آدمی بلوالیں۔یہ ہدایت ساڑھے بارہ بجے کے قریب حضرت صاحبزادہ کو ملی۔