تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 30 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 30

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ فضلوں کے وارث یا اس کے غضب کے مورد ہوتے ہیں۔لیکن مونگے کو اس کا کوئی علم نہیں ہو تاکہ وہ ایک نئی دنیا پیدا کر رہا ہے اور اس طرح وہ خدا تعالیٰ کا بروز ہو جاتا ہے۔انبیاء بھی خدا تعالی کے بروز ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔میرزا محمد اشرف نے بھی اس نظام میں کام کیا ہے اور اس میں کام کرنے والوں کی یہ ترقی نہیں کہ وہ مثلاً نہیں روپیہ تنخواہ سے شروع ہو کر سو روپیہ پر پہنچ جائیں۔یہ بھی بے شک ترقی ہے لیکن اصل چیز کے مقابلہ میں یہ بالکل پیچ ہے۔ہر کارکن خواہ وہ اپنی حیثیت کو سمجھے یا نہ سمجھے بہر حال اگر اس نے اخلاص سے کام کیا ہے تو وہ اس عظیم الشان عمارت میں بنزلہ بنیاد کے ہے جس کی عظمت کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔بعض لوگ اپنی کم علمی کے باعث اس سے بھی محروم ہوتے ہیں کہ وہ کسی چیز کا اس قدر بھی اندازہ کر سکیں جس قدر بیان کی جاچکی ہے اور اس لئے بعض لوگ اس عظمت کو بھی محسوس نہیں کر سکتے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں بیان کی گئی ہے۔جنت کا جو نقشہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے اس کا کسی قدر اندازہ وہ دشمن تو کر سکتا ہے جس نے شالا مار باغ اور دوسرے فرحت افزا باغات دیکھے ہیں لیکن عرب کا وہ وحشی جس کا باغ کھجور کے دو درختوں سے زیادہ نہیں ہوتا وہ اس کا اندازہ بھی کرنے لگے تو زیادہ سے زیادہ پانچ دس کھجوروں کے درخت پر جاکر اس کا تخیل ختم ہو جائے گا اسی طرح بعض لوگ باوجود بنیاد کی اینٹ ہونے کے ظاہری علوم سے بے بہرہ ہونے کے باعث محسوس نہیں کر سکتے۔کہ ان کی خدمات کے کیا نتائج نکلنے والے ہیں وہ اس کام کی عظمت کو سمجھتے نہیں یا سمجھ سکتے نہیں کہ وہ کتنے عظیم الشان کام میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے اس دنیا میں اور اگلے جہان میں کس قدر زیر دست نتائج نکلنے والے ہیں۔لیکن بہر حال نہ جاننے سے کام کی عظمت میں فرق نہیں آسکتا۔میرزا محمد اشرف صاحب کو میں نے دیکھا ہے اور ان کی یہ بات مجھے ہمیشہ پسند آئی کہ وہ اس طرح کام کرتے رہے ہیں جس طرح ایک عورت اپنے گھر میں کام کرتی ہے وہ جانتی ہے کہ اس کے پاس کتنا سرمایہ ہے اور وہ اس سے کس طرح بہتر سے بہتر کام لے سکتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ قلیل سے قلیل رقم میں ہی سب کار نینا لوں۔ان کے اندر ہمیشہ یہی روح کام کرتی رہی ہے کہ سلسلہ کا صیغہ مالیات مضبوط نہ ان کی طرح ہو اور چونکہ میرے اپنے خیالات کی روح بھی اسی طرف ہے اس لئے مجھے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی اور ہمیشہ اطمینان رہتا تھا کہ مالیات کی باگ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو اسے صحیح طریق پر چلا رہا ہے انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ممکن ہے ان سے بھی ہوتی ہوں لیکن ایسے شخص کے کاموں میں جو درد رکھتا ہے اور جو اس روح کے ساتھ کام کرتا ہے اس کی غلطیوں کے باوجو د نتائج