تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 458
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ مام سوم سوم وہ غیر احمد کی جو جمعہ کے لئے اکٹھے ہوئے تھے ان کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ ہم احراریوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے۔یہ لوگ محض شرارت کے لئے قادیان آئے ہیں۔تو مجسٹریٹ نے کہا۔میں تم کو اس مسجد میں جمعہ پڑھنے نہیں دوں گا کیونکہ اس سے فساد ہوتا ہے حالانکہ رو کنا فساد کرنے والوں کو چاہئے تھا۔پھر جبکہ یہ لوگ قادیان کے ایک دوسرے سرے پر نماز پڑھ رہے تھے تو فساد کا احتمال کس طرح ہو سکتا تھا۔جب ان غریبوں نے کہا کہ ہم احراریوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے کی آپ اجازت نہیں دیتے تو ہم کہاں جمعہ ادا کریں تو مجسٹریٹ نے کہا کہ کھیتوں میں جاکر پڑھو۔انہوں نے کہا کہ کھیت تو احمدیوں کے ہیں تو انہیں کہا گیا کہ جہاں چاہو پڑھو مگر اس مسجد میں مت پڑھو حالانکہ وہ غریب آدمی ہیں وہ مسجد کے سوا اتنی جگہ کہاں سے لائیں مگر انہیں یہی کہا گیا کہ یا تو احراریوں کے ساتھ جمعہ ادا کر دیا کسی اور جگہ پڑھو مگر اس مسجد میں نہ پڑھو۔اس کے بعد اس مسجد پر جمعہ کے دن پولیس کے آدمی متعین ہوئے کہ کسی کو جمعہ نہ پڑھنے دیں۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ گورنمنٹ خود احراریوں کی مدد کر رہی ہے اور وہ دوسرے مسلمانوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ بھی احراریوں کے پیچھے نماز پڑھیں۔کیونکہ قادیان کے وہ دو سرے مسلمان جو جمعہ کی قیمت سمجھتے ہیں جب جمعہ پڑھنے کے لئے مجبور ہوں گے تو سوائے اس کے ان کے لئے اور کوئی صورت نہیں ہوگی کہ وہ احراریوں کی مسجد میں جائیں اور اس طرح ہمارے مخالفوں کا منشاء پورا ہو کہ لوگوں کے دل ہمارے خلاف باتیں سن سن کر ہماری دشمنی کے خیالات سے بھر جائیں۔غرض اس واقعہ سے ثابت ہے کہ گورنمنٹ کے بعض افسر لوگوں کو مجبور کر کے احرار کے ساتھ لگانا چاہتے ہیں کہ وہاں سے اشتعال پکڑ کر وہ فساد کریں۔نواں واقعہ نواں واقعہ بھی ایسا ہے کہ اس کا خیال کر کے حیرت آتی ہے اور حکومت کی خاموشی کو دیکھ کر یہی خیال کرنا پڑتا ہے کہ شائد اسے صحیح واقعات کی اطلاع نہیں دی گئی ورنہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس قدر جھوٹ بولا جائے اور اس کی تردید نہ کی جائے۔۔۔۔۔۔عجیب واقعہ ہے۔ہم بالکل بے خبر بیٹھے تھے کہ ایک پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسر قادیان آئے اور مجھ سے بھی ملنے آگئے انہوں نے دوران گفتگو میں مجھ سے ذکر کیا کہ رپورٹ ہوئی ہے کہ احمدیوں نے نیزے تیار کئے ہیں اور ایک نیزہ پولیس نے پکڑ کر بطور نمونہ بھجوایا بھی ہے۔میں اس خبر کو سن کر حیران رہ گیا۔کیونکہ مجھے اس کی کوئی اطلاع نہ تھی اور میں نے ناظر صاحب کار خاص سے جو اس وقت پاس تھے اس کی حقیقت پوچھی۔انہوں نے بتایا کہ ایک ڈیرہ غازی خاں کا طالب علم نجاری کا کام یہاں سیکھتا ہے اس نے ایک لوہار دوست سے مل کر ایک کھڈ سٹک یہاں بنوائی تھی جسے یہاں کی پولیس نے نیزہ قرار دے کر رپورٹ کر