تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 452
تاریخ احمد بیست - جلده ۴۳۸ آتے ہیں اور ہمیشہ پنجابی ڈھولے فراغت کے وقتوں میں پڑھتے رہتے ہیں۔ایسے کچھ دوست اسی محلہ میں ایک احمدی کے مکان میں کچھ ڈھولے پڑھ رہے تھے جس پر پولیس نے ان کو روکا اور گوان کارو کنا سراسر نا جائز تھا۔وہ رک گئے مگر اس کا نام یہ رکھا گیا کہ احمدیوں نے جلسہ گاہ کے اندریا قریب شعر پڑھ پڑھ کر جلسہ کو خراب کرنا چاہا۔چوتھا واقعہ جو تھا واقعہ یہ ہے کہ ہاں کی پولیس کی طرف سے رپورٹ کی گئی کہ ایک سرکاری افسر کی ڈیوٹی میں احمدیوں کی طرف سے رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔۔۔۔۔۔واقعہ یوں ہے کہ ڈاک خانہ کا ایک کلرک جس کا احراریوں سے بھی تعلق تھا اور احمدیوں سے بھی اسے اس کے ایک احمدی دوست نے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں کہ ہم سے بھی تعلق رکھتے ہو او را حراریوں سے بھی۔بس اس قدر بات کا کہنا ایک سرکاری افسر کے فرض منصبی میں رکاوٹ ڈالنا قرار دیا گیا۔گویا احراریوں سے ملناڈاک خانہ کے فرائض میں سے ایک فرض ہے اور بابو کا یہ کام ہے کہ جہاں وہ منی آرڈر کرے وہاں احراریوں سے بھی ملے۔اس رپورٹ پر پولیس دوڑی چلی آئی اور گھبراہٹ کا ایک عالم طاری ہو گیا۔ہم الگ حیران کہ خدایا یہ کیا جرم ہو گیا گو ہر الزام بعد میں غلط ہی لکھتا تھا۔لیکن جماعت کی اصلاح پر نظر رکھتے ہوئے میں ہر دفعہ اپنے ہی آدمیوں پر ناراض ہو تاکہ آپ لوگ اعتراض کا موقعہ ہی کیوں دیتے ہیں۔اس دفعہ بھی میں نے ایسا ہی کیا۔گو حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک میری طبیعت میں بھی اس قدر اشتعال پیدا ہو چکا تھا کہ اگر جماعت کی ذمہ داری میرے سر پر نہ ہوتی تو میں جیل خانہ جانا پسند کرتا لیکن اس روز مرہ کی چھیڑ خانی کو برداشت کرنے سے انکار کر دیتا۔بهر حال اس دفعہ پھر حکومت کی مشینری شدت کے ساتھ حرکت میں آئی اور میں نے بھی اپنی جماعت کے لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ کیوں آپ لوگ سلسلہ کی عزت کے خیال سے اپنے جوشوں کو دبا کر نہیں رکھتے ذلت برداشت کر لو لیکن ان باتوں سے بچو جن سے سلسلہ کی ہتک ہوتی ہے۔اس دفعہ ایک انسپکٹر صاحب پولیس تفتیش کے لئے مقرر کئے گئے۔انہوں نے یہاں آکر بیان لئے اور ڈاک خانہ کے اس کلرک نے جس کی نسبت کہا گیا تھا کہ اسے اپنے فرائض منصبی سے روکا گیا ہے باوجود مخالفت کے صاف کہہ دیا کہ اسے ڈاک خانہ کے کام سے کسی نے نہیں روکا۔صرف اس کے ایک دوست نے اس سے شکوہ کیا تھا کہ تم ہمارے بھی دوست بنتے ہو اور احرار سے بھی میل جول رکھتے ہو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔پولیس بیانات لے گئی اور ہم نے سمجھا کہ یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔مگر بعد میں بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ اوپر رپورٹ یہ کی گئی ہے کہ شکایت تو درست تھی لیکن غالبا کلرک کو احمدیوں نے ورغلا لیا ہے اس لئے وہ اب منکر ہو گیا ہے۔