تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 450 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 450

تاریخ احمدیت جلد ؟ معاڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس جو اس وقت قادیان میں ہی تھے اپنا آدمی دوڑایا کہ احمدی حملہ کرنے آگئے ہیں آپ جلد آئیں گویا احمدی مبلغ کا رقعہ احمدیوں کا حملہ بن گیا۔مجھ سے خود ایک ذمہ دار پولیس کے اعلیٰ افسر نے بیان کیا کہ آپ کی جماعت نے سخت نا معقولیت کی کیونکہ اس موقعہ پر کہ احرار کے لوگ کثرت سے آئے ہوئے تھے اور ہندوؤں اور سکھوں میں بھی آپ کے خلاف جوش ہے اگر فساد ہو جاتا تو نہ معلوم کیا ہو جاتا۔ایسے مواقع پر مکان جلا دیئے جاتے اور محلے تباہ کر دیئے جاتے ہیں خیر اس واقعہ کے بعد یہ مشغلہ حکام کے ہاتھ آگیا اور اس پر کارروائی شروع ہو گئی اور آدمی پر آدمی آنا شروع ہو گیا کہ یہ کیا غضب ہو گیا ہم نے انہیں کہا کہ آپ کی طرف سے حکم دیا گیا تھا کہ احمدیوں کو اس جلسہ میں جانے سے روکا جائے۔پھر کو نسا طریق تھا جو ہم انہیں روکنے کے لئے اختیار کرتے ۱۵ ہزار میں سے بے شک کافی حصہ اس دن واپس چلا گیا تھا مگر رمضان المبارک کی وجہ سے اور کچھ میری ملاقات کی وجہ سے پانچ چھ ہزار سے زائد مہمان ابھی یہاں موجود تھا سات ہزار کے قریب قادیان کے احمدی تھے ان دس بارہ ہزار آدمیوں کو روکنے کی آخر کیا تد بیر اختیار کی جاتی پھر آپ نے خود کہا تھا کہ احمدیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی وہاں نہ گیا۔پھر اس میں فساد کی کیا صورت ہو سکتی ہے مگر ان دلائل کی کوئی شنوائی نہ ہوئی اور یہی کہا گیا کہ اگر فساد ہو جاتا تو کئی خون ہو جاتے۔ہزاروں آدمی جیل میں چلے جاتے اور مکانات جل جاتے وہاں تین ہزار آدمی جن میں ہندو اور سکھ بھی تھے جمع تھے جو سب آپ کے مخالف تھے اور فساد کا سخت خطرہ تھا حالانکہ تین ہزار آدمی اس مسجد میں بھی جس میں میں یہ خطبہ پڑھ رہا ہوں سا نہیں سکتا۔اور وہ مسجد تو جہاں جلسہ ہو رہا تھا نہایت چھوٹی سی ہے اور ایک ہزار آدمی بھی اس میں نہیں آسکتا۔گورنمنٹ کے پاس جو رپورٹ کی گئی اس کے متعلق خود ایک اعلیٰ افسر نے مجھ سے بیان کیا کہ اس رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا کہ احمدی وہاں گئے اور انہوں نے فساد برپا کرنا چاہا۔لیکن ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے وہاں جا کر فساد رفع دفع کیا۔جب میں نے کہا کہ میری رپورٹ یہ ہے کہ سوائے ان چند آدمیوں کے جن کو اس امر کے لئے مقرر کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو وہاں جانے سے منع کریں اور سوائے مبلغ اور اس کے دو تین ساتھیوں کے وہاں کوئی نہیں گیا۔اور نہ کوئی فساد ہوا تو اس افسر نے کہا کہ آخر اتنے بڑے افسر کو جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔میں نے اس کا یہی جواب دیا کہ بے شک انہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں۔مگر میں بھی اپنے آدمیوں کی سچائی کو جانتا ہوں۔اس لئے میں دوبارہ تحقیق کراؤں گا کہ یہ اختلاف کیو نکر پیدا ہوا ہے۔چنانچہ میں نے دوبارہ تحقیق کرائی اور ناظر متعلقہ نے بعد تحقیق رپورٹ کی کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ