تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 437 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 437

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۲۳ سوم صاحب کا دعویٰ نعوذ باللہ جھوٹا اور ہم بھی اپنے دعویٰ میں کاذب ہیں۔مشرق اور مغرب کے لوگ اور شمال اور جنوب کے باشندے بھی اگر مل جائیں تو وہ ایک تنکا کے برابر بھی ہمیں اپنی جگہ سے ادھر ادھر نہیں کر سکتے۔یہ اللہ تعالٰی کا سلسلہ ہے اور وہ خود اس کا محافظ اور نگران ہے تمہارا کام ہے کہ تم محبت اور پیار سے لوگوں کو سمجھاؤ اور اگر کوئی مخالفت میں بڑھتا چلا جاتا ہے تو تم اس کے لئے دعاؤں میں بڑھتے چلے جاؤ کیونکہ برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس کے اندر ہو اگر وہ گالیاں دیتے ہیں تو دیں کیونکہ ان کے پاس گالیوں کے سوا اور کوئی چیز نہیں مگر تمہارا فرض ہے کہ تم نرمی اور محبت کا ثبوت پیش کرو۔کیونکہ تمہارے پاس یہی چیز ہے جس سے کامیابی ہو گی۔وہ اگر گالیاں بھی دیں تو جیسے شہد کے چھتے پر اگر کوئی شخص پتھر مارے تو اس سے شہد ہی ٹیکے گا۔اسی طرح تمہارا فرض ہے کہ تم گالیوں کے جواب میں دعائیں دو یہ مت خیال کرو کہ نرمی سے کیا بنتا ہے۔دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں نرمی کا اثر ہوتا ہے اور آخر سخت دل بھی جھکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پس تم ثابت کر دو کہ تمہارے اندر نیکی اور تقویٰ ہے اگر وہ پتھر مارتے ہیں تو تم دعا ئیں دو گالیاں دیتے ہیں تو انہیں برداشت کرو اور اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کرو کہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالٰی سے دعا ئیں کرو گے تو اس کی نصرت اور تائید ایسے رنگ میں ظاہر ہوگی کہ انسانی تدابیر اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی"۔تیسری ہدایت: اس ضمن میں حضور نے ۱۲ / اکتوبر ۱۹۳۴ء کو خطبہ جمعہ میں ایک اہم نصیحت یہ فرمائی کہ۔و جس طرح سورج اور چاند کے وجود پر یقین ہے اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ احمدیت خدا کی طرف سے ہے پس کسی فتنہ کے نتیجہ کے متعلق تو ہمیں شبہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہمارے لئے نتیجہ ظاہر ہے اور اسے کوئی بدل نہیں سکتا- جف القلم بما هو كائن۔۔۔۔۔۔اس لئے نتائج کے لحاظ سے ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے بے فکر ہیں جو مخالفتیں ہمارے لئے مقدر ہیں اور جو فتنے ہم نے دور کرنے ہیں ان کے مقابل میں اس موجودہ فتنہ کی حقیقت اتنی بھی نہیں جتنی کہ ایک ہاتھی کے مقابلہ میں چیونٹی کی ہو سکتی ہے۔جو مشکلات ہمارے لئے مقدر ہیں وہ اتنی بڑی ہیں کہ بعض احمدیوں کے خیال میں بھی نہیں آسکتیں صرف وہی لوگ جانتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا علم عطا کیا ہے اور وہ بھی ظاہر نہیں کرتے جب تک کہ خدا تعالیٰ ان کے اظہار کا موقعہ نہ لے آئے ان مشکلات کے مقابلہ میں یہ فتنہ تو ایسا ہی ہے جیسے راستہ چلتے ہوئے کسی کے پاؤں کے آگے کنکر آجائے اور وہ اسے پاؤں کی ٹھو کر سے پرے پھینک دے ہم نے تو اس آسمان کو بدل کر نیا آسمان اور اس زمین کو بدل کر نئی زمین پیدا کرنی ہے ہم نے پہاڑوں کو اڑانا اور سمندروں کو خشک کرنا ہے نیا آسمان اور نئی