تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 436
تاریخ احمدیت جلد ۶ کر سکیں تو وہ بچے۔مگر نا ممکن ہے کہ انہیں کامیابی ہو۔باقی رہیں عارضی مشکلات سو یہ آیا ہی کرتی ہیں۔۔۔۔۔وہ بے شک ہمیں ماریں۔پیٹیں۔ہم میں سے بعض کو لولا لنگڑا کر دیں یا جان سے مار دیں ہمیں اس کی پرواہ نہیں۔جس چیز کی پرواہ ہے وہ یہ ہے کہ ہم ہار نہ جائیں اور یہ یقینی بات ہے کہ دشمن ہی ہاریں گے ہم نہیں ہار سکتے۔چاہے کوئی گورنمنٹ کھڑی ہو جائے۔علماء اور عوام سب مل جائیں یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ ہم جیتیں گے ہم کونے کا پتھر ہیں جس پر ہم گرے وہ بھی ٹوٹ جائے گا اور جو ہم پر گرا وہ بھی سلامت نہیں رہے گا۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا "۔جماعت احمدیہ کو نہایت اہم اور قیمتی ہدایات ان بشارتوں کے ساتھ حضور نے جماعت کو بعض نہایت اہم اور قیمتی ہدایات سے نوازا۔اس سلسلہ میں بعض قیمتی ہدایات حضور ہی کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہیں۔پہلی ہدایت: "ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا مقصد فتح نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی فتح حاصل کرنا ہے۔ہمارا مقصد دین اور اسلام کے احکام کے مطابق فتح حاصل کرنا ہے اور یہ چیزیں حاصل نہیں ہو تیں جب تک انسان خدا کے لئے موت قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو موت اور صرف موت کے ذریعہ یہ فتح حاصل ہو سکتی ہے اور جو موت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اسے فتح بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔پھر موت بھی ایک وقت کی نہیں بلکہ وہ جو ہر منٹ اور ہر گھڑی آتی ہے"۔پس اپنے نفوس میں تبدیلی پیدا کرو۔قلوب کو پاک کرو - زبان کو شائستہ اور اپنے آپ کو اس امر کا عادی بناؤ کہ خدا کے لئے دکھ اور تکلیفوں کو برداشت کر سکو۔تب تم خدا کا ہتھیار ہو جاؤ گے اور پھر خدا ساری دنیا کو کھینچ کر تمہاری طرف لے آئے گا اگر یہ تبدیلی تم اپنے اندر پیدا نہیں کرتے تو پھر کچھ بھی نہیں اور اگر اس صورت میں فتح آبھی جائے تو وہ ذلت سے بد تر ہے اور وہ خدا کی نہیں بلکہ شیطان۔TEA کی فتح ہے"۔دوسری ہدایت: " ایک بنی ڈر ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ دشمن ہمیں کہیں مار نہ ڈالیں۔ایک ساعت کے لئے بلکہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ کے لئے بھی جس شخص کے دل میں یہ خیال آتا ہے اس کے اندر ایمان کی ایک رائی کا کروڑواں حصہ بھی داخل نہیں ہوا۔میں تو یقین رکھتا ہوں کہ یہ دشمن کیا اگر انگریز اور جرمن اور چین اور جاپان اور روس اور اٹلی وغیرہ تمام حکومتیں بھی مل جائیں تب بھی وہ ہمیں تباہ نہیں کر سکتیں اور اگر تباہ کر دیں تو یقیناً ہمارا سلسلہ جھوٹا ہے بنی نوع انسان تمام کے تمام مل جائیں۔امراء و غرباء علماء و ادباء بڑے اور چھوٹے عالم اور جاہل مرد اور عورتیں اجتماعی حیثیت میں بھی ہمارے سلسلہ کو مٹادیں۔تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہو گا اور یہ بات یقینی ہو گی کہ حضرت مرزا !