تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 435 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 435

تاریخ احمدیت جلد ۷ اس کا ہمیں اقرار ہے۔مگر خدا تعالٰی کے وعدہ پر ہمیں یقین ہے اور اس کے متعلق ہم کوئی ضعف نہیں دکھا سکتے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کو کچل دیں گے۔مگر یہ ضرور یقینا اور حتمی طور پر کہتے ہیں کہ خدا ان کو کچل دے گا۔خواہ وہ کتنی بڑی فوجوں کے ساتھ ہمارے خلاف کھڑے ہو جائیں۔لڑائی کا نام اسلامی اصطلاح میں آگ رکھا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے۔" آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے "۔پس ہم پر غالب آنے کا خیال ان کا محض وہم وگمان ہے۔اگر ہم میں سے ہر ایک کو قتل کر دیں پھر قتل کر کے جلا دیں اور پھر راکھ کو اڑا دیں تو بھی دنیا میں احمدیت قائم رہے گی۔ہر قوم ہر ملک اور ہر بر اعظم میں پھیلے گی اور ساری دنیا میں احمدیت ہی احمدیت نظر آئے گی۔یہ خدا کا گایا ہوا پودا ہے اس کے خلاف جو زبان دراز ہوگی وہ زبان کائی جائے گی۔جو ہاتھ اٹھے گاوہ ہاتھ گرایا جائے گا۔جو آواز بلند ہوگی وہ آواز بند کی جائے گی۔جو قدم اٹھے گا وہ قدم کاٹا جائے گا اگر انگریز ، جر من امریکن فرانسیسی سب مل جائیں تو بھی جس طرح مچھر مسلا جاتا ہے اسی طرح مسلے جائیں گے اور ساری قومیں احمدیت کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی"۔۲۴۵۰ اسی طرح ۱۴/ اپریل ۱۹۳۳ء کو خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا۔”ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔ایک چیز ہے جو مقدر ہے اور ان مقدرات سے ہے جن میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ فرمایا لا تبديل لكلمت الله جس طرح ماں کے پیٹ کے بچہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ انسان بنے خواہ چھوٹا یا بڑا بہر حال وہ انسانیت کے رستے پر چلے گا۔اگر وہ ضائع بھی ہو جائے۔تب بھی انسانیت کے راستہ پر ہی ہو گا۔اس کے لئے ایک رستہ مقرر ہے جس میں کوئی رد و بدل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ہمارے لئے مقدر ہے کہ بہر حال اللہ تعالی کے مسیح کے ماننے والے غالب آئیں گے اس لئے یہ تو سوال ہی زیر بحث نہیں آسکتا کہ ہم جیتیں گے یا ہمارے مخالف فتح اور جیت ہمارے لئے مقدر ہو چکی ہے"۔۲۴۶ اس کے بعد ۱۹۳۴ء کے وسط میں بھی ارشاد فرمایا۔احرار ہوں یا کوئی اور ہوں وہ ایک مچھر جتنی بھی وقعت نہیں رکھتے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ لوگ ہمارے مقابل میں ایک فیصدی کامیابی بھی حاصل کرلیں گے۔یہ کیا قادیان کے سارے مخالف مل جائیں۔ہندو سکھ غیر احمدی اور احراری ہماری مخالفت میں متحد ہو جائیں اس کے بعد وہ ارد گرد کے لوگوں کو ملا کر اپنی جماعت کو بڑھائیں۔پھر سارے ملک میں سے جن کو اپنا مددگار بنا سکتے ہیں بنالیں۔حتی کہ انگریز بھی بے شک ان کے ساتھ مل جائیں اگر یہ تمام مل کر ہمارے مقابلہ میں ایک فیصدی کامیابی