تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 434 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 434

تاریخ ۴۲۰ نے مجھ سے حدیث کا سبق پڑھا ہے خصوصاً اور عام اہل اسلام سے عموماً دست بسته درخواست کرتا ہوں کہ وہ لاہوری فداکاران دین کی طرح مرزائیت کے قصر بے بنیاد کو برباد کرنے میں ہر ممکن سعی کرنے ۲۴ سے دریغ نہ فرماویں " - 1 اسی طرح مولوی احمد علی صاحب امیرانجمن خدام الدین لاہور اور مولوی ظفر علی خاں صاحب ایڈیٹر ”زمیندار“ نے مسلمانوں سے اپیل کی۔" وہ آخری فتنہ جس کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی مشرق میں قادیانیت کی صورت پکڑ کر ظاہر ہو چکا ہے لہذا ہم تمام مسلمانوں کو اللہ کے نام سے جو لم یلد و لم یولد ہے۔محمد مصطفى الله کے نام پر جو خاتم النبین ہے اسلام کے نام پر کہ اللہ کے نزدیک وہی دین مقبول ہے درد بھرے دل سے صلائے عام دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام جزوی اختلافات کو دور کر کے اس فتنہ (قادیانی) کی بیخ کنی کرنے میں ہر ممکن ذرائع کے استعمال سے پہلو ہی نہ کریں۔ورنہ بجز خسر الدنیا والاخرة کچھ حاصل نہ ہو گا"۔۲۴۲ فتنہ کی روک تھام کے لئے ایک کمیٹی کی تشکیل مرزا عبدالحق صاحب (پلیڈر گورداسپور) کا بیان ہے کہ احرار کے مقابلہ کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کے وہ بھی ممبر تھے۔اسی طرح مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور اور چند اور اصحاب بھی۔حضور خود اس کمیٹی کی صدارت فرماتے۔کمیٹی کے ممبروں پر بہت سی پابندیاں تھیں اور ان کے سامنے واقعات تفصیلی طور پر رکھے جاتے تھے۔اس ضمن میں ضروری خط و کتابت اور لٹریچر کے محفوظ رکھنے کا کام حضور نے براہ راست اپنی نگرانی میں رکھا ہوا تھا۔۱۲۴۴ ابھی اس فتنہ کا آغاز ہی ہوا تھا کہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فتح احمدیت کی پیشگوئیاں نے احمدیت کی کامیابی کا واضح اعلان کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ حضور نے سالانہ جلسہ ۱۹۳۱ء کے پہلے روز احرار کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت پر شوکت الفاظ میں فرمایا۔ہم ان سے کہتے ہیں تم کیا۔اگر تم دنیا کی ساری حکومتوں اور ساری قوموں کو بلا کر بھی اپنے ساتھ لے آؤ پھر بھی تم جیت جاؤ تو ہم جھوٹے۔اگر ان لوگوں نے ایسا کیا تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس چیز سے ٹکراتے ہیں۔اگر انہوں نے ہم پر حملہ کیا تو چکنا چور ہو جائیں گے اور اگر ہم نے ان پر حملہ کیا تو بھی وہ چکنا چور ہو جائیں گے۔یہ خدا کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور یہ اس کی مشیت اور ارادہ ہے کہ اسے کامیاب کرے۔اس کے خلاف کوئی انسانی طاقت کچھ نہیں کر سکتی۔بے شک ہم کمزور ہیں۔ضعیف ہیں