تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 418
۴۰۴ تاریخ احمدیت جلد ۷ حل ہو سکتی ہے"۔TIA اخبار "زمیندار" مولوی ظفر علی خان صاحب کے اخبار "زمیندار" کا بیان (۱۱/ اگست ۱۹۳۵ء) نے اپنے اداریہ میں جماعت احمدیہ کے خلاف احرار کی مخالفت میں شامل ہونے کا سبب سیاسی انتخاب قرار دیتے ہوئے لکھا۔قادیانیت کے خلاف تحریک شروع ہوئی یہ تحریک آغاز کار میں منظم نہ تھی۔منتظم تحریک اس وقت ہوئی جب مولانا ظفر علی خاں کی صدارت میں بٹالہ میں کانفرنس ہوئی۔پنجاب اور یو - پی کے اکثر علماء نے شرکت کی۔مولانا ظفر علی خاں نے اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا کہ اس سلسلہ میں تعمیری اور تخریبی دونوں کام ہونے چاہئیں اور تجویز کیا کہ تعمیری کام کے لئے مجلس دعوت و ارشاد قائم ہوئی چاہئے۔یہ مجلس پہلے بٹالہ میں قائم ہوئی اس کے بعد لاہور میں اس کے متعلق تحریک ہوئی۔تمام علماء بلا تمیز سنی و شیعه دیو بندی و بریلوی و مقلد و غیر مقلد اس میں شامل ہوئے اور تمام فرق اسلامیہ کی تائید اسے حاصل تھی۔۔۔چوہدری افضل حق نے اس مرحلہ پر مسلمانوں کے کانوں تک یہ بات پہنچائی کہ حکومت پر کونسلوں میں شور و غوغا مچائے بغیر اثر نہیں ڈالا جا سکتا۔اس لئے ہم تو کونسل میں جائیں گے۔آپ چاہے تو مجالس دعوت وارشاد قائم کیجئے چاہے تو مساجد میں تقریریں کیجئے اور چاہے تو جیلوں میں جائیے۔اس سے قارئین کرام اندازہ فرما سکتے ہیں کہ احرار کے نزدیک قادیان کی مخالفت کی کیا اہمیت تھی بتدریج یہ حقیقت زمانہ نے مولانا حبیب الرحمن اور چودھری افضل حق پر جو سب سے بڑا استاد ہے واضح کر دی کہ کیا خدمت دین کے اعتبار سے اور کیا مالی منفعت کے لحاظ سے قادیانیت کی مخالفت اہم ترین اور موثر ترین ہے۔اس کے بعد وہ بھی اس میدان میں اتر آئے۔آج احرار کا یہ دعوی ہے کہ ان کے جذبہ ایمانی نے قادیانیت کی مخالفت کی طرف ان کی راہنمائی کی۔لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اس دعوئی میں صداقت کا ایک شمہ بھی نہیں ان کا جذبہ ایمانی تو وہ تھا جس نے ان سے یہ کہلوایا تھا کہ کونسلوں میں جانا زیادہ ضروری ہے۔یہ جذبہ مسابقت تھا جس نے پھر انہیں اس میدان میں لا ڈالا " - 0 سر سکندر اور گورنر ایمرسن ہندوؤں ، سکھوں اور احراریوں نے سر سکندر اور ان کے ساتھیوں سے آئندہ الیکشن میں کامیابی کے لئے جو منصوبہ سوچا وہ مندرجہ بالا تحریرات کی روشنی میں بالکل عیاں اور نمایاں ہے۔اب ہمیں اس امر پر روشنی ڈالنا ہے کہ سر سکندر اور انگریزی قوم اور گورنر پنجاب سر ایمرسن کے باہمی تعلقات کتنے گہرے تھے۔یہ بتانا