تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 412
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ دو سرا باب ( فصل ہفتم) احرار کا حکومت پنجاب سے گٹھ جوڑ اب ہندوستان کی انگریزی حکومت کے تیور تیزی سے بدل رہے تھے اور وہ جماعت احمدیہ کے خلاف اقدام کرانے پر آمادہ ہو چکی تھی۔ہندو جو اس تاک میں بیٹھے ہوئے تھے یہ سنہری موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتے تھے لہذا انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کا فیصلہ کیا یعنی جماعت احمدیہ سے مقابلہ کرنے کے ساتھ ہندوستان کی مسلم سیاست کے نامور لیڈر اور اپنے خطرناک حریف سر فضل حسین صاحب کو ناکام بنانے کے لئے حکومت پنجاب سے گٹھ جوڑ کر لیا۔اور عین اس وقت جبکہ سر فضل حسین کے بعد ایگزیکٹو کونسل کی ممبری کے سلسلہ میں چودھری ظفر اللہ خاں صاحب کو منتخب کئے جانے کی خبریں مشہور ہونے لگیں انہوں نے اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف احمدی ہونے اور میاں سر فضل حسین صاحب کے خلاف " قادیانی نواز" ہونے کی بناء پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ہندوؤں نے حکومت پنجاب سے کیوں اور کس طرح گٹھ جوڑ کیا اور انگریزی ہندو اور سکھ بساط سیاست کے وہ کون سے مہرے تھے جو اس موقعہ پر آگے آئے؟ اس کی حقیقت افروز تفصیل جناب سید تور احمد صاحب کے قلم سے پڑھئے۔لکھتے ہیں۔"کمیونل ایوارڈ" کے اعلان کے بعد پنجاب کے جناب سید نور احمد صاحب کا بیان ہندوؤں اور سکھوں نے اپنے ذہن پر مسلم راج " کا خوف مسلط کر لیا تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر نئے آئین کے تحت سر فضل حسین کو پنجاب کا وزیر اعظم بننے کا موقعہ ملا تو مسلم راج" کا ہوا حقیقی صورت اختیار کرلے گا۔لہذاوہ ہر شخص کو جو سر فضل حسین کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے علیحدہ رکھ سکے اپنا تعاون پیش کرنے کو تیار تھے۔اس صوبے کی یونینسٹ پارٹی میں سر فضل حسین کے بعد سب سے نمایاں حیثیت سر سکندرحیات خاں نے حاصل کر لی تھی۔جب سر فضل حسین گورنر جنرل کی ایگزیکٹو کونسل میں تھے تو صوبائی کابینہ میں ان کی جگہ سر