تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 407 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 407

تاریخ احمدیت - جلد 4 کے اس الزام نے کہ اندرون کشمیر شورش برپا کئے جانے کی ذمہ داری قادیان پر عائد ہوتی ہے انگریزی حکومت کو بھی متاثر کیا اور حکومت نے اسے نہ صرف امن و امان بلکہ و قار کا بھی مسئلہ بنالیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے نے اہل کشمیر کے نام خطوط لکھے جن سے (کشمیر میں کام کرنے والے) مسٹر گلائسی اور دوسرے انگریزوں کی ناراضگی بہت بڑھ گئی۔اور آخر ڈوگرہ حکومت اور حکومت انگریزی کی منشاء کے مطابق اور کوشش کے نتیجہ میں کشمیر کمیٹی میں احمدی اور غیر احمدی کا سوال کھڑا کر دیا گیا اور ۷ / مئی ۱۹۳۳ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہو گئے جس کے بعد انگریزی حکومت نے رستہ صاف پا کر احمدیت کی مخالفت میں اپنی کوششیں تیز تر کر دیں اور سرکاری حلقوں میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور آپ کی جماعت کا سیاسیات میں حصہ لینے کا عام چر چا کیا جانے لگا۔سیاسی حلقوں میں احمدیوں کے سیاسیات میں حصہ لینے کا چرچا اس حقیقت کے ثبوت میں ہم ذیل میں خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کی بعض ان اہم رپورٹوں کے اقتباسات یا ان کے خلاصے درج کرتے ہیں جو آپ نے ۳۴-۱۹۳۳ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں تحریر کئے۔حضرت خان صاحب ان دنوں جماعت احمدیہ کی طرف سے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور دوسرے ملکی معاملات کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے نمائندہ تھے اور اسی حیثیت سے سرکاری افسروں سے ملاقاتیں کرنا ان کے فرائض میں شامل تھا۔آپ کے علاوہ ۲۰/ فروری ۱۹۳۴ء کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بھی وائسرائے سے ملاقات کی تو انہوں نے تحریک کشمیر کا ذکر آنے پر کہا۔مجھے اطلاع ملی ہے کہ کشمیر کے احمدی فساد مچا رہے ہیں اور گورنمنٹ کی مخالفت کر رہے ہیں اور امن قائم نہیں ہونے دیتے۔انگریزی افسروں میں سے سب سے پہلے جس افسر نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سیاسیات میں حصہ لینے پر ناپسندیدگی کا کھلا اظہار کیا وہ مسٹر گلانسی تھے۔چنانچہ مولوی فرزند علی صاحب کی ایک رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں۔میری پہلی ملاقات مسٹر گلانسی ( پولٹیکل سیکرٹری حکومت ہند) سے ۱۰/ جولائی ۱۹۳۳ء کی صبح کو ہوئی۔اسی روز بعد دو پھر گورنر سے ملاقات تھی جس میں انہوں نے ہمارے کشمیر میں دخل دینے کو برا ماننے کا اظہار کیا۔گلانسی نے اس ملاقات میں ایسا نہیں کہا۔دوسری ملاقات میں اس نے بھی گورنر کی رائے سے اتفاق کا اظہار کیا۔میاں فضل حسین صاحب نے غالبا پہلی دفعہ ۱۴/ جولائی ۱۹۳۳ء کو اس