تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 405
تاریخ احمدیت جلده ضرورت ہو گی تو عنان سلطنت سخت ظالم اور جفا پیشہ بادشاہ کے ہاتھ میں ہوگی۔اور روئے زمین پر کشت و خون اور فتنہ و فساد کا طوفان برپا ہو گا۔اس وقت اس کی ضرورت ہو گی کہ الہ العالمین اپنی مخلوق کی حفاظت اور آسائش و امن گستری کے لئے کسی انصاف مجسم امام بادشاہ اسلام (مهدی و مسیح) کو معبوث فرمائیں۔لیکن مرزا جی نے تو مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا ہے کہ مہدی ومسیح کا یہی زمانہ ہے اور قادیان ضلع گورداسپور میں وہ مہدی ومسیح بیٹھا ہوا ہے وہ کسر صلیب کے لئے معبوث ہوا ہے۔تاکہ عیسویت کو محو کر کے اسلام کو روشن کرے اور یہ بھی برملا کہتا ہے کہ خدا نے اسے بتلا دیا ہے کہ سلطنت بھی اس کو ملنے والی ہے چنانچہ اس نے اپنی متعدد تصانیف میں یہ الہام و کشف سنایا ہے کہ خدا نے اسے بتلا دیا ہے کہ بادشاہ اس کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔بلکہ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ بادشاہ اسے دکھائے بھی گئے ہیں اور یہ بھی کہتا ہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہت مرزائیوں کی جماعت کو کسی زمانہ میں ملے گی۔اب خیال فرمائیے کہ یہ خیال کہاں تک خوفناک خیال ہے جبکہ مرزا جی نے یہ الہام ظاہر کر کے پیشگوئی کر دی ہے کہ بادشاہ اس کے حلقہ بگوش ہوں گے اور بادشاہت مرزائیوں کو ملے گی کیا عجب کہ ایک زمانہ میں مرزائیوں کو جو اس کی پیشگوئیاں پورا کرنے کے لئے اپنی جانیں دینے کو تیار ہیں (جیسا کہ اپنے بیان میں وہ لکھا چکا ہے کہ اس کے مرید جان و مال اس پر قربان کئے بیٹھے ہیں ) یہ جوش آجائے کہ اس پیشگوئی کو پورا کیا جائے اور وہ کوئی فتنہ و بغاوت برپا کریں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا جی نے مسلمانوں کو نصاری سے سخت بد ظن اور مشتعل کر رکھا ہے۔وہ دجال سمجھتے ہیں تو نصاری کو خرد جال کہتے ہیں تو ریلوے کو۔اب سوال یہ ہے کہ ریلوے کس نے جاری کر رکھی ہے ؟ جب یہ خرد جال ہے تو اس کے چلانے والے بادشاہ وقت کو ہی دجال کہتے ہیں اور مسلمانوں کو اس کے برخلاف سخت مشتعل کر رہے ہیں۔گورنمنٹ کو ایسے اشخاص کا ہر وقت خیال رکھنا چاہئے۔الغرض ان سیاسی اور مذہبی وجوہ کے باعث سرکاری حلقوں میں ۱۹۰۷ ء تک جماعت احمدیہ کی مخالفت پوری شدت سے ہوتی رہی۔سرا بٹس گورنر ہوئے تو انہوں نے تمام حالات کا جائزہ لے کر اور حضور کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد حکومت کو یہ رپورٹ کی کہ اس جماعت کے ساتھ یہ سلوک ناروا ہے۔چنانچہ اس کی رپورٹ پر احمدیوں سے پولیس کی کڑی نگرانی تو ختم کر دی گئی۔مگر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نگرانی کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں آخر دم تک جاری رہا۔جس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے کہ ۸ / مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تحریر اعرض کیا کہ ایک انگریز حضور کو ملنا چاہتا ہے۔جس پر حضور نے جواب ۱۹۴