تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 400
تاریخ احمدیت جلد ۶ مسلمانوں اور ان کے اداروں کو حکومت انگریزی کی طرف سے جاگیروں خطابوں اور انعاموں سے نوازا گیا جس کی بہت سی تفصیل سر لیپل گریفین کی کتاب " رؤسائے پنجاب میں موجود ہے۔پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ احمدیت کے سب سے پہلے اور بڑے مخالف ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو کتاب "الاقتصاد فی مسائل الجہاد " لکھنے پر چار مرجعے دیئے گئے جس کا ذکر خود ان کے قلم سے اشاعت السنہ جلد ۱۹ نمبر صفحہ ہ / اپر موجود ہے۔غرضکہ کہاں تک بیان کیا جائے حقائق و واقعات سے ثابت ہے کہ جماعت کے قیام سے قبل اور اس کے بعد مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی طبقات بلکہ حکمران تک انگریز کے رہین منت اور تابع فرمان تھے ان حالات میں جماعت احمدیہ پر برطانوی استعمار کے مضبوط کرنے کا الزام جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے بالخصوص جبکہ کوئی شخص ثابت نہیں کر سکتا کہ جماعت احمدیہ نے کبھی انگریزی حکومت سے رعایا کے عام حقوق سے بالا کوئی فائدہ اٹھایا ہو۔۴۔سکھوں کے زمانہ حکومت میں مسلمان سچ سچ ایک دہکتے ہوئے تنور میں پڑے ہوئے تھے کہ انگریزی حکومت کی وجہ سے مذہبی آزادی نصیب ہوئی۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محض اس احسان کے باعث اپنی کتابوں میں انگریزوں کی تعریف فرمائی ہے۔احراری یہ تعریف اپنے ماحول سے الگ کر کے سناتے اور نتیجہ یہ اخذ کرتے تھے کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے یہ اصول احراری ذہن کی پیداوار تھا جس کو صحیح تسلیم کر لینے سے مسلمانوں کے تمام فرقے اور ان کے جید علماء اور زعماء انگریزوں کے پھوؤں اور ٹوڈیوں کی فہرست میں داخل ہو جاتے ہیں۔خصوصاً امیر شریعت احرار کے استاد مولوی ظفر علی خاں صاحب ID اور حکیم الامت " ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب بھی کیونکہ ان کی تحریرات انگریز کی مدح سرائی سے بھری پڑی ہیں۔جماعت احمدیہ کو انگریزوں کا ایجنٹ قرار دینے والے احراریوں نے احمدیت کو چوتھا ہتھیار شکست دینے کے لئے چو تھا ہتھیار یہ استعمال کیا کہ یہ پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ احمدی HAY لوگ نہ صرف در پردہ انگریزی حکومت کے مخالف ہیں بلکہ اپنی طاقت بڑھا کر سیاسی اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے قادیان میں ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔جس کے قوانین برطانوی آئین سے مزاحم ہیں۔مجلس احرار کا یہ نظریہ اگر چہ ان کے اس خیال کے بالکل بر عکس تھا کہ احمدی برطانیہ کے جاسوس ہیں مگر سیاست کے ان شاطروں نے اسے بڑی کثرت و شدت کے ساتھ پیش کیا۔یہ ہتھیار تحریک کشمیر کے شروع میں براہ راست ہندو قوم کے سیاسی کارخانے سے ڈھل کر آیا تھا اور اس کا مقصد جماعت