تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 401 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 401

تاریخ احمد بیت جلد ۶ ۳۸۷ احمد یہ اور حکومت کو آپس میں الجھانا اور لڑانا تھا۔چنانچہ آریہ اخبار "پر کاش (۲۸/ فروری ۱۹۳۲ء) نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ایک تقریر مندرجہ "الفضل " (۱۸ / فروری ۱۹۳۲ء) سے چند سطور نقل کرنے کے بعد لکھا۔ان سطور میں مرزا جو کہہ گئے کوئی کانگرسی اس سے زیادہ کیا کہے گا۔ہاں اتنا فرق ضرور ہے کہ کانگریسی اپنے بیگانوں سب کے سامنے ایک ہی بات کہتا ہے لیکن قادیانی خلیفہ اپنے پولٹیکل آقاؤں کے سامنے ان کی وفاداری کا دم بھرتا ہے لیکن اپنے مریدوں کے سامنے حکومت پر نکتہ چینی کی جرات دکھا سکتا ہے"۔ہندو پریس کے اس پراپیگنڈا کو عوام اور حکومت دونوں تک پھیلانے کا کام مولوی ظفر علی خاں صاحب نے اپنے ذمہ لیا اور ۲۴ / فروری ۱۹۳۳ء کو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔ہم جارج پنجم کی حکومت سے کہتے ہیں کہ از برائے سیخ ہمیں اس لعنت سے بچائیے کہ ہمارے نبی عیسی کو گالیاں دی جائیں۔۔۔۔مسیحیت IT کی غیرت آج مرگئی ہے"۔" آج خواہ حکومت کی وقتی مصلحتیں قادیانیوں کو اس کی چہیتی امت بنا دیں۔لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ آڑے وقتوں میں حکومت کے ہر گز کام نہیں آسکتے۔حکومت کی مدد سر عمر حیات خاں سر فیروز خاں نون سر سکندر حیات خاں خاں بہادر رحیم بخش کر سکتے ہیں یا یہ قادیانی جنہیں کسی بات کا شعور نہیں۔حکومت کی اعانت ان قادیانیوں نے نہیں کی بلکہ ان مسلمانوں نے کی جو عراق و شام میں ثمن قلیل کے عوض اپنا دین و ایمان بیچ آئے"۔ای طرح اخبار "زمیندار" نے اس سے بھی واضح لفظوں میں لکھا۔" قادیان میں جو قوانین نافذ ہیں وہ برطانی قوانین سے ٹکرا رہے ہیں"۔ہندو اور مولوی ظفر علی خاں صاحب کے دوش بدوش اب مجلس احرار نے بھی اس کی اشاعت میں سرگرمی دکھانا شروع کی۔چنانچہ مولوی حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی نے ۲۰ / مارچ ۱۹۳۴ء کو مسجد خیر الدین امر تسر میں تقریر کی جس میں کہا۔میں احمدیوں کو کا فرمانتا ہوں۔مگر میری وجو ہات اور ہیں اور آپ کی اور میں اس لئے ان کو کافر نہیں مانتا کہ یہ انگریزوں کو " اولو الامر منکم " مانتے ہیں یا جہاد کے منکر ہیں یا قرآن کے منکر ہیں یا مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔میری اور وجوہات ہیں۔میں نے مولویوں کے فتاویٰ کفر پڑھے ہیں انہوں نے گھبرا کر اور احمدیوں سے مرعوب ہو کر ایسے فتوے دیئے یہ مولویوں کی کمزوری ہے۔اگر آج یہ انگریزوں کے خلاف جنگ کریں یا جہاد کریں اور ختم نبوت مانیں تو کیا تم ان کو مسلمان مان لو گے ہرگز