تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 399 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 399

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۳۸۵ کیونکہ اسلام کو ختم اور مسلمانوں کو فنا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی سامراجی قوتوں کو قائم رکھنے کے - لئے تمام ذمہ داریاں اس نبی اور اس کی امت نے اپنے سر لے لیں "۔احرار کا تو یہ پراپیگنڈا ہے مگر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی مسیحیت سے متعلق اپنی پہلی ہی کتاب فتح اسلام میں یہ ارشاد فرمایا ہے۔" یہ کر کچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں کہ جب تک ان کے اس سحر کے مقابل پر خدا تعالٰی وہ پر زور ہاتھ نہ دکھا دے جو معجزہ کی قدرت اپنے اندر رکھتا ہو اور اس معجزہ سے اس طلسم کو پاش پاش نہ کرے تب تک اس جادوئے فرنگ سے سادہ لوح دلوں کو مخلصی حاصل ہونا بالکل قیاس اور گمان سے باہر ہے سو خدا تعالٰی نے اس جادو کے باطل کرنے کے لئے اپنے اس بندہ کو اپنے الہام اور اپنی برکات خاصہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ کامل بخش کر مخالفین کے مقابل پر بھیجا۔۔۔تا اس آسمانی پتھر کے ذریعہ سے وہ موم کا بت تو ڑ دیا جائے جو سحر فرنگ نے تیار کیا ہے"۔-- احمدیوں کے انگریزی ایجنٹ ہونے کی ایک ”دلیل“ یہ بھی دی گئی کہ ان کے ذریعہ سے مسلم ممالک میں برطانوی استعمار مستحکم ہوا۔حالانکہ جماعت احمدیہ کا قیام بعد کو ہوا اور انگریز پہلے ہی ہر طرف چھاچکے تھے حتی کہ افغانستان جیسے مسلمان ملک کے فرمانروا امیر عبدالرحمن کی نسبت بر صغیر کے نامور عالم مولوی محمد علی صاحب قصوری لکھتے ہیں۔انگریزی حکومت کے ہندوستان میں قیام کے بعد اس کی افعانستان سے آئے دن چقپاش رہتی تھی بالآخر انگریزوں نے امیر عبدالرحمن کو کابل کے تخت پر بٹھلایا اور ان سے معاہدہ کیا کہ وہ ہندوستانی سرحدوں پر افغان قبائل کی یورش کی روک تھام کرتے رہیں گے اور اس کے صلے میں انہیں بارہ لاکھ سالانہ وظیفہ دینا منظور کیا۔امیر عبدالرحمن مرحوم نہایت جابر بادشاہ تھے انہوں نے افغانوں کی روح آزادی کچلنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا "۔IAL ای طرح امیر حبیب اللہ صاحب کی نسبت لکھتے ہیں۔امیر صاحب کا سارا بجٹ انگریزوں کے روپے کا مرہون احسان تھا۔ان کا تمام ذاتی خرچ ہندوستان کے امدادی روپے سے چلتا تھا۔پھر مختلف بیش قیمت تحائف بھی سرکار انگریزی سے اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہنچتے رہتے تھے۔بڑے بڑے افغان افسر تقریباً تمام انگریزوں کے تنخواہ دار 1AT " ہندوستان میں جہاں ۱۸۵۸ء سے عنان حکومت براہ راست برطانیہ کے ہاتھ میں آچکی تھی