تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 388 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 388

تاریخ احمد بیت - جلد ؟ اور تیسرے نے چوتھے کو وہ پیالی ہاتھوں ہاتھ پہنچانی شروع کر دی یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ سنج پر پہنچ گئی۔سٹیج پر اتفاقاً کسی شخص کو خیال آگیا اور اس نے احتیاط کے طور پر ذرا سی ملائی چکھی تو اس کی زبان کٹ گئی تب معلوم ہوا کہ اس میں زہر ٹی ہوئی ہے۔اب اگر وہ ملائی مجھ تک پہنچ جاتی اور میں خدانخواستہ اسے چکھ لیتا تو اور کچھ اثر ہوتایا نہ ہو تا اتنا تو ضرور ہو تاکہ تقریر رک جاتی۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ قادیان میں ایک دفعہ دیسی عیسائی آیا۔جس کا نام جے میتھیوز تھا اور اس کا ارادہ تھا کہ مجھے قتل کر دے یہاں سے جب وہ ناکام لوٹا تو اس کا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔اور اس نے اسے قتل کر دیا۔اس پر عدالت میں مقدمہ چلا اور اس نے سپیشل کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا اصل بات یہ ہے کہ میرا ارادہ اپنی بیوی کو ہلاک کرنے کا نہیں تھا بلکہ میں مرزا صاحب کو ہلاک کرنا چاہتا تھا میں نے ایک جگہ کسی مولوی کی تقریر سنی جس نے ذکر کیا کہ قادیان کے مرزا صاحب بہت برے آدمی ہیں اور ان میں یہ یہ برائیاں ہیں۔میں نے اس کی تقریر کے بعد فیصلہ کیا کہ میں قادیان جاکر مرزا صاحب کو مار ڈالوں گا۔چنانچہ میں پستول لے کر قادیان گیا۔اتفاقاً اس روز جمعہ تھا۔جمعہ کے خطبہ میں چونکہ بہت لوگ اکٹھے تھے اس لئے مجھے ان پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔دوسرے دن میں نے سنا کہ وہ پھیرو پہنچی چلے گئے ہیں۔میں پستول لے کر ان کے پیچھے پیچھے پھیرا پیچی گیا اور میں نے سمجھا کہ وہاں آسانی سے میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکوں گا۔مگر وہاں بھی میں نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ہر وقت پہرے دار بیٹھے رہتے ہیں اس لئے میں واپس آگیا۔گھر آکر میرا اپنی بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔اور میں نے اسے مار ڈالا۔یہ سارا واقعہ اس نے عدالت میں خود بیان کیا حالانکہ ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ کوئی شخص کس نیت اور ارادہ کے ساتھ ہمارے پاس آیا ہے۔لیکن ہر موقعہ پر اللہ تعالی نے حفاظت کی اور اسے حملہ کرنے میں ناکام رکھا۔تیسرا واقعہ یہ ہے کہ احرار کی شورش کے ایام میں میں ایک دن اپنی کو ٹھی دار الحمد میں تھا کہ ایک افعان لڑکا آیا اور اس نے کہلا بھیجا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں میرے چھوٹے بچے اندر آئے اور انہوں نے بتایا کہ ایک لڑکا باہر کھڑا ہے اور وہ ملنا چاہتا ہے میں باہر نکلنے ہی والا تھا کہ میں نے شور کی آواز سنی میں حیران ہوا کہ یہ شور کیسا ہے۔چنانچہ میں نے دریافت کرایا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ یہ لڑکا قتل کے ارادہ سے آیا تھا۔مگر عبد الاحد صاحب نے اسے پکڑ لیا اور اس سے ایک چھرا بھی انہوں نے بر آمد کر لیا ہے۔میں نے عبد الاحد صاحب سے پوچھا کہ تمہیں کس طرح پتہ لگ گیا کہ یہ قتل کے ارادہ سے آیا ہے۔وہ کہنے لگے کہ یہ لڑکا پٹھان تھا اور ہم پٹھانوں کی عادات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔جب یہ باتیں کر رہا تھا تو باتیں کرتے کرتے اس نے اپنی ٹانگوں کو اس طرح ہلایا کہ میں فورا سمجھ گیا کہ اس نے |