تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 387 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 387

احراریوں کی اشتعال انگیزی سے کس طرح دلخراش و روح فرسا مناظر قتل کے منصوبے سامنے آئے اس کی تفصیل تو اس باب میں بھی اور آئندہ جلدوں میں بھی آئے گی۔مگر یہاں خاص طور پر یہ بتانا مقصود ہے کہ احرار کی شرر بار تقریروں کے نتیجہ میں شوریدہ سمر لوگوں نے احمدیوں کو قتل کرنے کے منصوبے کئے۔احرار ہی کی اشتعال انگیزی کا اثر تھا کہ اخبار احسان (۵/ فروری ۱۹۳۵ء) لاہور نے لکھا۔" مرزائیوں کو شکر کرنا چاہئے کہ وہ صدیق اکبر ی کے زمانہ میں پیدا نہیں ہوئے۔ورنہ جس طرح انہوں نے ان نام نہاد مسلمانوں کے خلاف جہاد بالسیف کیا تھا جنہوں نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کیا تھا اسی طرح وہ مرزائیوں کا بھی صفایا کر دیتے"۔پھر ا / فروری ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں لکھا۔tt اگر آج مسلمانوں میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ موجود ہوتے تو استیصال قادیانیت کے لئے شمشیر آبدار کو نیام سے باہر کرتے۔اس عمومی فتویٰ کے علاوہ احراری خطیبوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی ذات والا صفات کو خاص طور پر اپنی مخالفت کا مرکز بنا لیا اور بار بار آپ کے قتل کے لئے اکساتے رہے۔چنانچہ غزنوی خاندان کے ایک امرتسری مولوی صاحب نے ۷ / فروری ۱۹۳۵ء کو دیر ووال میں تقریر کرتے ہوئے کہا عنقریب چند یوم میں خلیفہ قادیان قتل کیا جائے گا اور منارہ گرا دیا جائے گا۔نیز نہایت جوش میں یہاں تک کہا کہ پولیس اور گورنمنٹ سن لے کہ ہم جلدی خلیفہ قادیان کو قتل کرا دیں گے۔یکم مارچ ۱۹۳۵ء کو ایک احراری مولوی صاحب نے ارائیوں کی مسجد میں تقریر کی کہ ایک شخص اس قدر تنگ آگیا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ یا تو میں خود کشی کروں گا یا خلیفہ قادیان کو قتل کر دوں گا - |ICA قتل و غارت کی یہ دھمکیاں رنگ لائے بغیر نہ رہیں اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو قتل کرنے یا زہر دینے کی متعدد بار کوششیں کی گئیں۔اس ضمن میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے قلم سے پانچ اہم واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔حضور نے سالانہ جلسہ ۱۹۴۴ء کے موقعہ پر ارشاد فرمایا۔پہلا واقعہ: ایک گزشتہ جلسے کا واقعہ ہے۔میں تقریر کر رہا تھا اور تقریر کرتے کرتے میری عادت ہے کہ میں گرم گرم چائے کے ایک دو گھونٹ پی لیا کرتا ہوں تاکہ گلا درست رہے کہ اسی دوران میں جلسہ گاہ میں کسی شخص نے ملائی کی ایک پیالی دی اور کہا کہ یہ جلدی حضرت صاحب تک پہنچادیں کہ حضور کو تقریر کرتے کرتے ضعف ہو رہا ہے چنانچہ ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کو دو