تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 386 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 386

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۷۲ "مذہب کی تبلیغ جھگڑا نہیں بلکہ قوموں کے حسن اخلاق کا مقابلہ ہے تم نے محبت سے اور پورے خلوص دل سے دوسروں کو ان کے اپنے فائدہ کے لئے بلاتا ہے تمہیں تو حسن نیت کا اجر ملے گا جہاں حسن نیت ہو وہاں جھگڑے کی صورت کیا ہو سکتی ہے اپنے اخلاق عمدہ بنا کر دو سروں کو حسن اخلاق کی دعوت دیتا ہے پس پہلے نمازوں سے خدائی امداد حاصل کرو - محبت کی زبان سے مخلوق خدا کو بلاؤ۔خدمت اور قربانی سے دوسروں کا دل جیتنے کی کوشش کرو۔اپنے ایسے عمل میں اضافہ کرو جس سے مسلمانوں کی نیک سیرت قائم ہو ایسے اخلاق سے بچھو جن سے قو میں رسوا ہوتی ہیں۔کیا تم نے خود محسوس نہیں کیا کہ ہمارے برے اخلاق دنیا کو اسلام سے نفرت دلا رہے ہیں حالانکہ اسلام کی تعلیم نور ہی نور ہے یہ مذہب قومی اور شخصی انصاف کا تقاضا کرتا ہے ظلم اور برائی سے نفرت دلاتا ہے۔ہمیں ضرور مبلغ جہ ہے اس کے معنے یہ ہوئے کہ پہلے اپنے عمل کو انصاف کے ترازو پر تول کر اس کا پورا جائزہ لینا ہے ہر قسم کی نا انصافی سے تو بہ کرتا ہے بلکہ دوسروں کی غلطیاں معاف کر کے ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کا عہد باندھنا ہے دین میں کوئی زبردستی نہیں فریب اور ظلم سے دین نہیں پھیلتا بلکہ شرارت پھیلتی ہے دنیا میں انصاف پھیلاؤ رحم اور محبت کے ذریعہ دوسروں کے دل میں گھر کرو جس کام کو تم رحم اور محبت کی بناء پر نہ کرو گے اس سے دنیا میں فساد پھیلے گا۔قرآن بار بار لا تفسدوا فی الارض (زمین میں فساد نہ پھیلاؤ) کا تقاضا کرتا ہے۔تبلیغ دین میں اشتعال انگیز حالات پیدا کر نا دنیا کو اپنے مذہب سے نفرت دلانا ہے۔اچھا عمل میٹھی زبان اور عقل سے اپیل تبلیغ کے لئے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں اگرچہ عقل بڑی چیز ہے۔مگر اشاعت مذہب میں اس کا درجہ آخری ہے۔دنیا پہلے تمہارے عمل کو دیکھے گی۔پھر جس زبان سے بات کرو گے اس کی شیرینی کو دیکھے گی۔پھر کہیں اسے عقل سے پر کھے گی"۔10 مگر تبلیغ اسلام کا یہ دینی تقاضا مجلس احرار کے ہاتھوں اس سیاسی جنگ میں کس طرح پامال ہوا ؟ اس کی نسبت مولانا سید رئیس احمد صاحب جعفری لکھتے ہیں۔الدو اسلام اور قادیانیت مسلمان اور قادیانی ایک خالص دینی اور علمی مسئلہ ہے اس پر اسی حیثیت سے بحث و گفتگو ہونی چاہئے۔بد قسمتی سے اس مسئلہ کو جذباتی بنا لیا گیا جس سے عوام متاثر بھی ہوئے اور مشتعل بھی۔پھر اس کے نتیجہ میں ہنگامہ آرائیاں اور فساد انگیزیاں بھی ہو ئیں۔قتل وغارت اور کشت و خون کے مناظر بھی لوگوں نے دیکھے۔چنانچہ مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ ان حرکتوں کے باعث یا تو سرے سے مذہب سے بیزار ہو گیا یا کم از کم اس مسئلہ کو اس نے کوئی اہمیت نہیں دی اور دین ملافی سبیل اللہ فساد کہہ کر خاموش ہو گیا"۔