تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 384
احمدیت جلد te وغیرہ مضامین پر بحث نہیں کرتے۔خود مجلس احرار کے مشہور آرگن " آزاد " کو اعتراف ہے کہ۔حجتہ الاسلام حضرت علامہ انور شاہ صاحب کا شمیری حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور حضرت مولوی شاء اللہ صاحب امرتسری وغیر ہم رحمہم اللہ کے علمی اسلحہ فرنگی کی اس کاشتہ داشتہ نبوت کو موت کے گھاٹ نہ اتار سکے۔تو مجلس احرار اسلام کے مفکر اکابر نے جنگ کا رخ بدلا۔نئے ہتھیار لئے اور علمی بحث و نظر کے میدان سے ہٹ کر سیاست کی راہ سے فرنگی سیاست کے شاہکار پر حملہ آور ہو گئے "۔احرار نے احمدیوں کو مٹانے کے لئے جو سیاسی احرار کی سیاسی جنگ کا پہلا سیاسی ہتھیار جنگ شروع کی اس میں اول نمبر پر جو ہتھیار استعمال کیا وہ جذباتیت ، پھکڑ بازی اور اشتعال انگیزی کا ہتھیار ہے اور جس کے ماہر ہونے کا دعویٰ خود مجلس احرار کو ہے۔چنانچہ اخبار " آزاد " کے خصوصی " احرار نمبر" (مورخہ ۲۷/ ستمبر ۱۹۵۸ء) میں لکھا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مجلس احرار کے خطیبوں میں جذباتیت، پھکڑ بازی اور اشتعال انگیزی کا عصر غالب ہوتا ہے۔یہ ٹھیک ہے مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہماری قوم کی ذہنیت اور مذاق کیا ہے۔۔۔۔آپ ذرا حقیقت پسند سنجیدہ اور متین بن جائیں پھر آپ مسلمانوں میں مقبول ہو جا ئیں اور کوئی تعمیری و اصلاحی کام کر لیں تو ہمارا ذمہ۔یہی تو ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم حقائق و واقعات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے صرف جذبات سے کام نکالتے ہیں۔اسی طرح اشتعال انگیزی بھی ہماری تحریکوں ، جماعتوں اور قائدوں کی جان ہے۔آپ بڑے بڑے دیندار با اخلاق اور سنجیدہ و متین پہاڑوں کو کھو دیں تو اشتعال کا چوہا نکلے گا۔الیکشن بازی میں تو دیندار اور بے دین سب کے سب اشتعال انگیزی ہی سے کام لیتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس سے کوئی کم لیتا ہے اور کوئی زیادہ ہمارے احراری بزرگ اس میں سب سے آگے ہیں اس لئے وہ رشک و حسد کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں"۔اس اقتباس میں جماعت احمدیہ کے مخالف احراری پراپیگنڈا کی تین بنیادی خصوصیات کی نشان دہی کی گئی ہے اور اگر ہم احرار کی تحریروں اور تقریروں کا تجزیہ کریں تو وہ سب انہیں خصوصیات کے گرد چکر لگاتی ہیں اس حقیقت کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔مگر اس موقعہ پر نہ اس کی گنجائش ہے نہ ضرورت اس لئے یہاں ان کے صرف چند نمونوں پر اکتفا کریں گے۔جذباتیت: یوں تو سبھی احراری لیڈر عوامی جذبات سے کھیلنے میں مشاق تھے۔مگر امیر شریعت