تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 379
تاریخ احمدیت جلد ؟ ۳۶۵ دلانا چاہتے ہیں اس لئے حکومت کشمیر کے ایماء پر مسلمانوں کو ٹیڑھے راستہ پر چلانا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہ الزامات صحیح ہوں یا غلط۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگر احرار ہاؤس بوٹوں پر جان نہ دیتے۔اگر مرغن غذاؤں پر نہ مرتے۔اگر سیرو تفریح کے سامانوں پر لٹو نہ ہو جاتے۔بلکہ مسلمانان کشمیر کے ہاں فروکش ہوتے۔ان کے نان و نمک پر قناعت کرتے تو یقینا ستائیس ہزار مسلمانوں کی قربانیاں سپھل ہو تیں۔لیکن آہ! احرار کی خود غرضیوں نے ان عظیم الشان قربانیوں کو بھی بے اثر بنا دیا"۔۱۲۵- تحریک کشمیر کی تخریب کے بعد پھر کانگریس کی تحریک میں تحریک کشمیر کی صفوں میں انتشار اور مسلمانان کشمیر کے گرفتار بلا ہونے کے باعث ہندو قوم اور ڈوگرہ حکومت کا غشاء پورا ہو چکا تھا۔اس لئے احرار بھی تحریک کشمیر کے اس ضمنی کام کو چھوڑ کر اپنے مستقل فرائض کی طرف متوجہ ہوئے یعنی کانگریس کی تحریک سول نافرمانی میں پہنچے اور بہانہ یہ بنایا کہ شاید اس طرح انگریز ریاستی مسلمانوں سے انصاف کرنے کی طرف مائل ہو جائے۔حالانکہ احرار کے نزدیک بھی اس تحریک کشمیر کا آغاز براہ راست ہندو ذہنیت کے نتیجہ میں ہوا تھا اور جنگ در اصل انہی کے خلاف تھی۔مگر اس واضح حقیقت کے باوجود مجلس احرار کے مجاہد " جو تحریک کشمیر سے گھبرا اور اکتا چکے تھے کانگرس کی سول نافرمانی کو کامیاب بنانے کے لئے یکایک تازہ دم ہو گئے اور ہندوؤں کے دوش بدوش کام کرنے لگے۔چنانچہ چودھری افضل حق صاحب " تاریخ احرار " میں لکھتے ہیں۔اس وقت کانگریس کی سول نافرمانی شروع تھی لیکن احرار کے عدم شمولیت کے باعث اس کی حیثیت خالص ہندوؤں کے مظاہرے سے زیادہ نہ تھی۔ہمارے سامنے سوال یہ تھا کہ کانگریس کی سول نافرمانی میں شریک ہو کر انگریز کے گھاؤ کو گرا کریں ؟ شایدیوں انگریز ریاست کے مسلمانوں سے انصاف کرنے پر مجبور ہو جائے علاوہ ازیں یہ بھی مقصود تھا کہ کانگریس کی تحریک مسلمانوں کی شمولیت کے بغیر نہ رہ جائے۔آخریی مناسب خیال کیا گیا کہ اپنے پلیٹ فارم کو قائم رکھ کر مقامی طور پر بدیشی کپڑے کی دکانوں پر پکٹنگ لگادی جائے۔اس طرح مجلس اخراجات کی زیر باری سے بچے گی کیونکہ احرار کا خزانہ خالی ہو کا تھا " - A احراری لیڈروں اور مجاہدوں کی اس روش نے ان کا سارا بھرم کھول دیا۔چنانچہ پیسہ اخبار " نے