تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 378
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ سلام عليكم حکومت سے سازش کر کے اپنے فوائد حاصل کرنا اور کشمیری مسلمانوں کو حکومت کشمیر کے ہاتھوں فروخت کر دینے کے سوا کچھ نہیں۔بر خلاف اس کے انہی دنوں کشمیر کمیٹی کا ایک وفد کشمیر پہنچا۔مہاراجہ کی حکومت کی جانب سے انہیں بھی دعوت دی گئی۔لیکن انہوں نے حکومت کا مہمان بنے سے صاف انکار کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ وہ مسلمانان کشمیر کے جذبات کا احترام اپنا مقدس فرض سمجھتے ہیں۔وہ اپنے غریب بھائیوں کی مہمانی میں شاہی دستر خوان سے زیادہ لطف محسوس کرتے ہیں۔وہ ان پوشیدہ جھونپڑیوں میں ہاؤس بوٹوں سے زیادہ راحت پاتے ہیں کیونکہ وہ کشمیر میں عیش کرنے اور میر منانے کے لئے نہیں آئے بلکہ مسلمانان کشمیر کے حقوق کی حفاظت کے لئے آئے ہیں۔اس لئے وہ مسلمانوں سے تبادلہ خیالات کرنے اور ان کے آراء و افکار کا مطالعہ کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔چنانچہ کشمیر کمیٹی کے وفد نے مسلمانان کشمیر کے مشورہ سے مطالبات کی ایک فہرست حکومت کشمیر کے سامنے پیش کر دی۔احراری وفد کی خود سری اور کشمیر کمیٹی کے ڈیپوٹیشن کی وفادارانہ روش نے جہاں مسلمانان کشمیر کو احراریوں کی جانب سے بدظن کر دیا وہاں کشمیر کمیٹی کے ارکان سے محبت و مودت کے جذبات پیدا کر دیئے۔احراریوں کو اعتراض ہے کہ کشمیر کمیٹی کے وفد کی مقبولیت نے کشمیر میں مرزائیت کی جڑیں لگادیں اور ان کی بنیادوں کو مستحکم کر دیا اس لئے وہ کشمیر کمیٹی کو مستم کرتے ہیں کہ کشمیر میں مرزائیت کے فروغ کی ذمہ داری کشمیر کمیٹی کے سر پر ہے۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ ”اے باد صبا ایں ہمہ آورده تست"۔یعنی اس کی تمام تر ذمہ داری خود احرار کے سر پر ہے۔احرار اگر اپنے اغراض کی خاطر حکومت کشمیر کی مہمانی قبول نہ کرتے اور مسلمانوں سے تبادلہ خیالات کئے بغیر نهایت خود سرانہ طریق پر مطالبات کی فہرست حکومت کے حوالے نہ کر دیتے بلکہ کشمیر کمیٹی کے وفد کی طرح عقل و خرد سے کام لیتے اپنے بھائیوں کے جذبات کا احترام فرماتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ مسلمانان کشمیر احرار سے نفرت کرنے لگتے اور کشمیر کمیٹی والوں کو آنکھوں پر بٹھلاتے۔یہی نہیں بلکہ ان دنوں کشمیر میں احرار کے خلاف نفرت و حقارت کا ایک عام جذبہ تھا اور احراریوں کے رویہ کے خلاف بر ملا ملامت کی جاتی تھی اور ان کے خلاف طرح طرح کے الزامات لگائے جاتے تھے۔مثلاً (1) بہت سے احراری لیڈروں کے متعلق یہ مشہور تھا کہ انہوں نے حکومت کشمیر سے نقد روپیہ لیا ہے اور اس طرح انہوں نے مسلمانوں کی غلط راہنمائی کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے۔(ب) یہ بھی کہا جاتا تھا کہ احراری اپنے کسی خاص لیڈر کو کشمیر میں کوئی چھوٹی موٹی وزارت یا ملازمت !