تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 373 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 373

۳۵۹ تاریخ احمدیت جلد انقلاب اسی طرح سباست مر پر بچے بھی نتین یوم هم نبر " مطبوعہ سواد در پاکت این بھجوادیا کریں تو توان یش ہوگیا تا کہ ہم بھی سیاست " فادي م متوسے سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔آپ آریا عرس سے جمون منور نوراه یاب " منی فیلم فرزند امیر کی وادی با سعادت مبارک کنیم یہ خط بفرض الصلح البلوغ خد مت ہر میں مصر ہو اتنا آپ مون یہ ہے۔وحید ہوا مجلس احرار نے سب سے زیادہ جس شخص کو ہدف تنقید بنایا وہ شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب تھے چنانچہ شیخ صاحب نے ۳۰/ دسمبر ۱۹۳۳ء کو مولانا عبدالرحیم صاحب درز کے نام خط لکھا کہ میرے خلاف احراری لوگ پنجاب میں برابر احمدی ہونے کا پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔میں مجلس احرار کے کارکنوں سے ملا تھا انہوں نے کہا۔جب تک تم احمدیوں کو خارج نہ کرو گے۔ہم سے صلح نہیں ہو سکتی۔میں نے ان سے کہا کہ یہ بات نا ممکن ہے۔ہمیں پرواہ نہیں آپ اگر آسمان پر جاکر میرے خلاف پراپیگنڈا کریں گے کہ یہ احمدی ہے لیکن خدا اور کشمیر کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔احمدیوں کا کسی سیاسی جماعت سے عقیدہ کی بنا پر علیحدہ کرنا دنیا میں کہیں نہیں دیکھا ہے۔یہ صرف احرار کا ہی نرالا اصول ہے۔بہر حال کشمکش جاری ہے "۔احرار ہند کا ایک ایسے وقت میں جبکہ مسلمانان کشمیر کی تحریک آزادی پوری کامیابی سے جاری تھی زعمائے آزادی کے خلاف مہم چلانا مفاد اسلامی سے صریح غداری کے مترادف تھا جس کی دشمنان اسلام کے ہاتھ میں کھلونا بننے والوں کے سوا کسی اور سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی یہ ایک ایسی کھلی بات