تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 369
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ دو سرا باب (فصل چهارم) ۳۵۵ تحریک کشمیر اور احرار ہند تحریک کشمیر میں جماعت احمدیہ کی مخالفت اور اس کا مقصد سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی مندرجہ بالا تقریر کے ایک ماہ بعد ۲۵/ جولائی ۱۹۳۱ء کو مسلمانان کشمیر کی امداد کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام ہوا جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی صدر منتخب کئے گئے۔جس پر پنجاب کے ہندو پریس احرار اور مولوی ظفر علی خاں تینوں احمدیت اور احمدیوں کے خلاف میدان مخالفت میں آگئے اور لعن و تشفیع کی بوچھاڑ شروع کر دی۔اس تحریک میں مجلس احرار نے جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ حریت کشمیر میں ایک بہت بڑا المیہ اور سانحہ کی حیثیت رکھتا ہے جس کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس تحریک میں احرار کی شمولیت مسلمانان کشمیر کی ہمدردی و غم خواری کے جذبہ کا نتیجہ تھی یا کانگریس اور ہندو پریس کی ہمنوائی میں محض جماعت احمدیہ کی مخالفت !! اس بارے میں مہاتما " چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار کی شہادت قابل توجہ ہے۔آپ ۱۹۳۱ء میں احرار لیڈروں کی رہائی کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔”گاندھی جی کو اپنے تعاون کا یقین دلانے کے لئے سید عطاء اللہ شاہ اور مولانا حبیب الرحمن صاحب بمبئی گئے۔لیکن مہاتما جی کی روح لندن کے متعارف کوچوں کی دوبارہ سیر کے لئے بے تاب تھی چھوٹا بھائی بڑے بھیا ( یعنی گاندھی - ناقل) کو کھل کر مشورہ نہیں دے سکتا۔گورو کو کون کہے کہ بوڑھے بابا کرم کرد۔۔۔۔اس دوران میں کشمیر پھر دیوار گریہ بن گیا۔سرینگر نے خون شہداء کے باعث کربلا کی سی صورت پیش کی۔۔۔۔ابھی ہماری ست فکری کسی منزل پر نہ پہنچی تھی کہ کچھ عافیت کوش مسلمان شملے کی بلندیوں سے بادل کی طرح گرجے ان خانہ برباد رؤسا اور امراء نے غضب یہ ڈھایا کہ مرزا بشیر محمود قادیانی کو اپنا قائد تسلیم کر لیا۔جمعیت العلماء نے ستم یہ کیا کہ اس بشیر کمیٹی سے تعاون کا اعلان کر دیا ( ؟ ) اس شخص نے اہل خطہ کی خدمت یہ کی کہ مرزائی مبلغ بھیج کر سرکاری نبوت کی اشاعت