تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 367
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۳۵۳ اخبارات کے وجود سے جو مفاسد اشاعت پا رہے ہیں ان کا سد باب کرے۔۔۔اس غرض کی اہمیت محتاج بیان نہیں اور گھر کا بھیدی ہونے کے لحاظ سے اس کام کو جس خوبی سے ”پیغام حق " سر انجام دے سکتا ہے وہ دوسرے اخبارات کے امکان میں نہیں۔سیاسیات وطن کے بارے میں ”پیغام حق " ان جرائد کا ہم نوا ہو گا جو ملک کے مختلف الخیال جماعتوں کو متحد کر کے آزادی و استقلال کے لئے رستہ صاف کر رہے ہیں۔اخبار " پیغام حق " کی اشاعت کے تھوڑے عرصہ بعد دسمبر ۱۹۲۹ء میں مجلس احرار اسلام ہند کا قیام ہوا اور ۱۹۳۰ء میں امیر شریعت احرار کانگریس کی سول نافرمانی میں حصہ لینے کی وجہ سے قید ہو گئے۔چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔انڈین نیشنل کانگریس نے ۱۹۲۹ء کے اجلاس میں بمقام لاہور جب آزادی کامل کی قرار داد منظور کی تو اس کی تائید واشاعت میں آپ نے نہایت انہماک اور سرگرمی سے حصہ لیا۔اور جب مہاتما گاندھی جی کی قیادت میں آزادی کا بگل بجایا گیا اور ممکن سول نافرمانی کا ملک میں آغاز ہوا۔تو آپ پیش پیش رہے اور تمام ہندوستان میں کانگریس کے پروگرام کی اشاعت کے لئے طوفانی دورے کئے اور آخر کار تاریخ ۳۰/ اگست ۱۹۳۰ء کو دیناج پور بنگال میں ۱۰۸ الف کے تحت گرفتار کر لئے گئے۔۔۔اس مقدمہ میں آپ کو ۲۰/ اکتوبر کو چھ ماہ قید سخت کی سزادی گئی شاہ صاحب نے معیاد امیری علی پور اور ڈم ڈم جیل میں گزاری" شاہ صاحب بالآخر ڈم ڈم جیل سے گاندھی جی اور حکومت کی عارضی صلح کے نتیجہ میں رہا ہو کر پنجاب آئے اور رہا ہوتے ہی آپ نے پہلا کام یہ کیا کہ ۱۴ / جون ۱۹۳۱ء کو بٹالہ کی انجمن شباب المسلمین کے سالانہ اجلاس میں احمدیت کے خلاف ایک اشتعال انگیز تقریر کی جس میں کہا۔” میں سر سے پاؤں تک سیاسی آدمی ہوں۔میری یہ دلی آرزو ہے کہ مسلمان اور اسلام پر قائم ہو کر مروں۔مجھے اس بات کا فخر ہے کہ میں اسلام کا فرزند ہوں قادیان کے لٹھے بازوں کی ہمیں کیا پرواہ ہے ہم اس کھونٹے ہی کو اکھاڑنے کی فکر میں ہیں جس پر قادیانی ناچتے ہیں۔آمین ہمارے ہاتھ میں آرہا ہے۔سائن رپورٹ تو ہمارے قدموں میں ہے لیکن ہم سو راج چاہتے ہیں۔وہ بھی ہمیں چند تحفظات کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔جسے ہم منظور نہیں کرتے کل کو گورنمنٹ ہماری ہو گی۔مرزائی کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب حکومت وقت کے تحت اطاعت سے رہنا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اب گورنمنٹ ہماری ہے "۔جنگ آزادی کے سپاہی بنو - آؤ آج میرے ساتھ بحالی امن کے ذمہ دار بنو۔میرے رضا کار بنو۔پھر دیکھو ا میں مرزائی کیمپ پر کس طرح پکٹنگ کرتا ہوں"۔