تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 359
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۴۵ دو سرا باب (فصل سوم) کانگریس کی قومیت متحدہ" کے خلاف جماعت احمدیہ کی مذہبی طاقت کانگریس کی " قومیت متحدہ " کے خلاف سیاسی طاقت مسلم لیگ" کانگریس اور اس کے ہم نوا احراری لیڈر قومیت متحدہ کی بناء پر مستقبل میں مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی مستقل غلامی میں دے دینا چاہتے تھے۔جس کے خلاف ملک میں دو زبر دست طاقتیں کار فرما تھیں۔ایک سیاسی دوسری مذہبی۔سیاسی طاقت کا نام آل انڈیا مسلم لیگ تھا۔جس کی قیادت قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے۔اور جس میں درد مند دل رکھنے والے مخلص مسلمانوں کی خاصی تعداد تھی۔جو مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لئے قومی پلیٹ فارم پر جدوجہد میں مصروف تھی۔مسلم لیگ نے پہلے تو مصالحانہ رنگ میں کوششیں کیں کہ ہندو مسلمان بھائیوں کی طرح آپس میں کوئی مفاہمت کر کے اس ملک میں آبرومندانہ زندگی بسر کریں مگر جب ہندو قوم کی تنگ ظرفی، تعصب اور اسلام دشمنی کا بار بار تجربہ کیا تو بالآخر پاکستان کا مطالبہ کر دیا۔مسلمانان ہند کی یہ واحد سیاسی جماعت اور اس کے لیڈر چونکہ ہندو قوم کے عزائم و مقاصد کے راہ میں سد راہ تھے۔اس لئے احراری لیڈروں کی بد کلامی اور سب و شتم کا ہمیشہ نشانہ بنتے رہے لیکن یہ موقعہ ان تفصیلات میں جانے کا نہیں انشاء اللہ قیام پاکستان کی جدوجہد کے ضمن میں اس پر روشنی ڈالی جائے گی۔سر دست اس جگہ احزاری زعماء کی ”خوش کلامیوں" اور "شیریں بیانیوں" کے ایک نمونہ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔مولوی ظفر علی خاں صاحب مدیر اخبار "زمیندار" تحریر فرماتے ہیں۔احرار کی شریعت کے امیر مولانا سید عطاء اللہ بخاری نے امروہہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے وہ سٹور ہیں اور سٹور کھانے والے ہیں۔او کما قال پھر میرٹھ میں مولوی حبیب الرحمٰن لدھیانوی صدر مجلس احرار اس قدر جوش میں آئے کہ دانت پیستے جاتے تھے