تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 357 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 357

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ا سلام سلام دیہاتیوں میں جاکر آزادی کا پیغام دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہندوستان میں کانگریس کی حکومت 47-"4 مسلم اکثریت امیر شریعت احرار کی نظر میں مسلمانوں کی اکثریت کا نگریسی عزائم سے خائف تھی اور احراریوں سے مطالبہ کرتی تھی کہ وہ اپنی روش بدل کر ہمارے ساتھ شامل ہوں اور مسلمانوں کو منتظم و متحد کریں۔مگر سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا جواب یہ ہو تا تھا کہ ہم سے کہا جاتا ہے کہ جدھر اکثریت ہو ادھر تم بھی چلو۔اور اکثریت کا ساتھ دو۔ہم اکثریت نہیں چاہتے ہمیشہ اقلیت حق پر ہوتی آئی ہے تم ہمیں کیوں مجبور کرتے ہو کہ اکثریت کا ساتھ دیں۔کیا میں مولانا حسین احمد کے مقابلہ میں مسٹر جناح کو ترجیح دوں جو بیدھڑک خلاف شرع دعوتوں میں شرکت کرتے ہیں۔ہم نام نہاد اکثریت کی تابعداری نہیں کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اکثریت باطل پر ہے ای طرح شاہ صاحب موصوف ایک بار بیرون دہلی دروازہ لاہور میں تقریر کر رہے تھے کہ کسی شخص نے اٹھ کر کہا۔شاہ جی آپ اکثریت کے ساتھ کیوں نہیں ہو جاتے۔آپ نے فورا یہ جواب دیا کہ اگر اکثریت ہی کا لحاظ ہے تو حضرت حسین نے پر درود کیوں بھیجے ہو یزید پر درود پڑھو"۔الغرض یہ حقیقت چھپائے چھپ نہیں جدوجہد آزادی کے نام پر ” جنگ بربادی" سمتی کہ قومیت متحدہ " کا نعرہ مسلم " قومیت مسلم تہذیب اور مسلم تمدن کا نام و نشان تک مٹانے کے لئے بلند کیا گیا۔یہ بالفاظ دیگر ” جنگ بربادی تھی۔جو ہندوستانی مسلمانوں کی تباہی کے لئے جد وجہد آزادی" کے نام سے کھیلی گئی اور اس سیاسی ڈرامہ میں سب سے نمایاں پارٹ امام الہند مولانا ابو الکلام صاحب آزاد اور خصوصاً ان کے توسط سے قائم کی ہوئی مجلس احرار اسلام نے ادا کیا۔ظلم و ستم کی حد یہ ہے کہ مجلس نے یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کیا۔مذہب کے نام پر کیا اور مسلمانوں میں ڈنکے کی چوٹ یہ وعظ کرتے ہوئے کیا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کو بخوشی ہندوؤں کی مستقل غلامی قبول کر لینی چاہئے۔چنانچه مولوی مظہر علی صاحب اظہر کو جو مدت تک احرار کے جنرل سیکرٹری رہے احرار کی اس کانگرس نوازی کا ان لفظوں میں اقرار کرنا پڑا۔" مجلس احرار میں کانگرس نوازی کا رجحان مدت سے چلا آ رہا ہے اور جس نے جماعت کو ہر مرحلے