تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 18
تاریخ احمد بیت - جلد ۷ A لیکن یا درکھنا چاہئے کہ اس کے لئے صرف تبلیغ کی ضرورت نہیں اس کے لئے صرف ایک دن کی تبلیغ کافی نہیں بلکہ مستقل تبلیغ اور ساتھ ہی دعاؤں کی ضرورت ہے "۔rt تحریک مصالحت اور اس کا اثر تبلیغی نظام چونکہ جماعت مومنین کے باہمی اتفاق و اتحاد اور جذبہ اخوت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس لئے حضور نے تبلیغ پر زور دینے کے ساتھ ۱۸ جنوری کے خطبہ جمعہ ہی میں جماعت سے اس خواہش کا بھی اظہار فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم اس نئے سال کو اس غرض کے لئے وقف کر دیں کہ جماعت سے تمام لڑائیاں جھگڑے تفرقے اور عناد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مٹادیں۔اس سلسلہ میں احباب جماعت کو یہ خاص ہدایت بھی فرمائی کہ جو شخص اپنے دوسرے بھائی سے کسی وجہ سے نہیں بولتا۔یا اس سے عداوت اور بغض رکھتا ہے وہ فورا اپنے بھائی کے پاس جائے اور اس سے خلوص دل کے ساتھ صلح کرلے اور آئندہ کے لئے کوشش کرے کہ آپس میں کوئی لڑائی اور جھگڑا نہ ہو۔حضرت امیرالمومنین کے اس خطبہ کا جماعت پر حیرت انگیز اثر ہوا اور جماعت کے دوستوں نے اپنی رنجشوں اور کدورتوں کو حضور کے اشارہ پر چھوڑ دیا۔حتی کہ لوگوں نے مالی نقصان گوارا کر کے خطبہ سنتے یا پڑھتے ہی صلح کرلی۔مستثنیات تو ہر معاملہ میں چلتی ہیں۔تاہم شاذ و نادر ہی کوئی ایک شخص ہو گا جو اس سعادت سے بھی محروم رہا ہو۔ام ۳۴ بر المومنین کی قیمتی نصیحت جماعت میں صلح و آشتی کا یہ خوشکن نظارہ دیکھ کر حضور نے ۲۹/ جنوری ۱۹۳۲ء کے خطبہ جمعہ میں نہایت خوشنوری کا اظہار فرمایا۔مگر ساتھ ہی نصیحت فرمائی۔میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ لوگ اپنے دلوں کو دوسروں کی نسبت صاف کرلیں اور خواہ وہ مظلوم ہی کیوں نہ ہوں صلح کر لیں۔میری یہ نصیحت نامکمل رہے گی اور فتنوں کا سد باب پوری طرح نہیں ہو گا جب تک میں اس کا دوسرا حصہ بھی بیان نہ کروں اور وہ یہ ہے کہ نہ صرف دو سروں کے متعلق ہر قسم کی کدورت سے اپنے دلوں کو صاف کرد بلکہ اس امر کو بھی مد نظر رکھو کہ کسی مظلوم کا معافی مانگ لینا ایسی بات نہیں جو تمہارے لئے خوشی کا موجب ہو سکے بلکہ خوشی صرف اس کے لئے ہے جس نے معافی مانگی اور تمہیں خوشی اس وقت حاصل ہو گی جب تم اپنے خدا کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اگر دوسروں کے حقوق کو تم نے غصب کیا ہوا ہے تو وہ حقوق ادا کر دو۔اور اگر تم پر کسی کا مالی یا جانی یا اخلا قا حق ہے تو وہ اسے دے دو۔ورنہ اگر تم دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے تو خواہ دوسرا شخص تم سے ہزار معافی مانگے اس کا درجہ تو بڑھتا جائے گا لیکن تمہارا جرم اور گناہ بھی ساتھ ہی ساتھ بڑھتا جائے