تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 347 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 347

تاریخ احمدیت - جلد ۶ اس دقیانوسی خیال کی گنجائش نہیں "۔قومیت متحدہ" کے لئے جمعیتہ العلماء کا فتویٰ کا نگریس نے "قومیت متحدہ " کی جو فتنه خیز اصطلاح مسلم تهذیب و تمدن کو بالکل فنا کر دینے کے لئے ایجاد کی تھی چونکہ مسلمان اسے باآسانی قبول نہیں کر سکتے تھے۔لہذا کانگریس نے اپنی مستقل ہندو نواز پالیسی کے مطابق جمعیتہ العلماء اور دوسرے آلہ کار علماء کو اس کی ترویج و اشاعت کے لئے آگے کر دیا۔جدید جمعیتہ العلماء ہند کے آرگن " الجمعیتہ " دہلی میں ۱۳/ اکتوبر ۱۹۳۳ء کو کانگرسی اخبار ”ہند کایه مضمون شائع ہوا کہ۔* ۵۰ و مسلمانان ہند کے مسلم علماء کی انجمن یعنی " جمعیتہ العلماء " جب کانگرس کے کسی فیصلہ کو امت کی مصلحت اور امت کے مقصد اعلیٰ کے لئے مفید سمجھ کر قبول کرلے تو جمعیتہ علماء کا یہ فیصلہ شرعی حیثیت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ یہ جمعیتہ اس وقت اولو الا مرکی حیثیت رکھتی ہے"۔اب جو " قومیت متحدہ پر " اولوالامر " علماء کی شرعی مہر ثبت ہو گئی تو مسلمانوں میں اس کا پراپیگینڈا شروع کر دیا گیا۔چنانچہ مولوی حسین احمد صاحب مدنی نے بر ملا کہا کہ۔" آج کل تو میں اوطان سے بنتی ہیں مذہب سے نہیں بنتیں"۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے اسی نظریہ کے خلاف یہ اشعار کے تھے۔هنوز نداند رموز دیں ورنہ ز دیو بند حسین احمد ایس چه بو النجمی است سرود بر سر منبر که ملت از وطن است چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است به او نرسیدی تمام بولسی است مصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر مولانا ابوالکلام صاحب آزاد " را شرقی " اور "قومیت متحدہ " " لیکن کانگریسی علماء جو قدم اٹھا چکے تھے اسے مسلمانوں کا کوئی احتجاج اور کوئی تنقید پلٹ نہیں سکتی تھی۔چنانچہ مولانا ابو الکلام صاحب آزاد تو (جن کی نسبت مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی نے لکھا تھا کہ۔مولانا ابو الکلام تمام تر ہندوؤں کے قبضے میں ہیں اور ان کی صدارت صرف نمائشی ہے وہ مسلمانوں کو چھوڑ چکے ہیں " ایک قدم آگے بڑھا کر مسلمانوں کو یہ درس دینے لگے کہ ”میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں۔میں ہندوستان کی ایک اور ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عصر ہوں میں اس متحدہ قومیت کا ایک اہم عصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورارہ