تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 345
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ کی یہ شکل و صورت ہی نہ رہے گی جو اس وقت ہے۔اس میں یا تو مناسب اصلاح ہو جائے گی اور یا لوگ عبد الرشید اور محمد امین کو رام سیوک اور رام دلارے کے نام سے پکارتے ہوئے دکھائی دیں گے اور ہندوستان میں آریہ سو راجیہ کا جھنڈا کوہ ہمالیہ کی سب سے بڑی چوٹی پر برا تا ایک دنیا دیکھے گی " سوامی ستیہ دیو براجک نے ساگر (صوبہ متوسط) میں تقریر کرتے ہوئے یہاں تک کہا۔”میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل اگر وہ قوم پرست نہ بنیں بڑے خطرے میں رہے گا ہندوستان کے مسلمان اگر اپنے مذہبی دیوانہ پن میں ڈوبے رہے تو ان کا کام صرف بدیشی گورنمنٹ کی مدد کرنا۔ہندوستان کو غلام رکھنا رہ جائے گا۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کسی آزادی کے موقعہ پر ملک کے سب لوگ (ہندو) ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی ہستی بڑے خطرے میں پڑ جائے گی۔مسلمانوں کی نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ قوم پرستی کا ہے۔پس میرا فرض عظیم ہے کہ ملک کے لوگوں کو قوم پرستی کی کچی تعلیم دے کر ہمیشہ کا خطرہ جو ملک کو لگا ہوا ہے اسے دور کروں اور پھوٹ کے اس خوفناک کانٹے کو نکال دوں"۔پھر کہا۔”سوراجیہ کی لڑائی خاص طور پر ہندوؤں کی لڑائی ہے۔کیونکہ یہ ملک ہندوؤں کا ہے۔۔۔۔۔میں آپ سے خاص طور سے کہتا ہوں کہ ہندوستانیوں کا موجودہ زمانہ میں سب سے بڑھ کر مذ ہب قوم پرستی ہے۔جو فرقے قوم پرستی کے خلاف جائیں گے ان کا نام و نشان مٹ جائے گا۔نام کلاهما کانگریس کی طرف سے قومیت متحدہ کاپر چار اور اس کا مقصد دراصل کی وہ مذہب "قوم پرستی" ہے جسے کانگریس کے ذہین و فطین ہندو لیڈروں نے قومیت متحدہ "یا " قومیت واحدہ" کے نام سے موسوم کیا۔چنانچہ مہاتما گاندھی نے لکھا۔" آج مسلمانوں کی الگ تہذیب ہے اور ہندوؤں کی الگ ان دونوں تہذیبوں کے امتزاج سے متحدہ قومیت کی تہذیب مرتب ہو گی"۔۱۴۵ اس کی تشریح سوامی سمپور نامند و زیر تعلیم یو۔پی نے ان الفاظ میں کی۔ہر وہ شخص جو ہندو یا مسلم تہذیب کے قائم رکھنے اور اس کو مدارس میں جاری کرنے پر زور دیتا ہے وہ یقینی طور پر ملک کو نقصان پہنچاتا ہے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ چیز ہندوستان میں مفقود ہونی چاہئے جب ہندو مسلم تہذہ میں مٹ جائیں گی تب ہی ہندوستانی تہذیب زندہ رہ سکے گی"۔آنریبل مسٹر کے۔ایم منشی ہوم منسٹر حکومت بھیئی نے ”قومیت متحدہ " کی وضاحت میں بتایا۔جس قدر رجحانات مذہب یا زبان یا ایسے چھوٹے چھوٹے مسائل کی بناء پر قومیت پرستی کے