تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 339 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 339

احمدیت۔جلد ۶ ۳۲۵ جو غمد ر۱۸۵۷ء میں برٹش گورنمنٹ سے مفسدوں نے سلوک کیا وہ فساد تھانہ جہاد۔۴۔ہندوستان کو دار الحرب سمجھنے والوں کو بھی اس ملک میں رہ کر گورنمنٹ سے مخالفت کرنا جائز نہیں ہے۔اس وقت جہاد کی شرطیں بالکل مفقود ہیں۔لہذا ملک ہند میں بلکتہ سے پشاور تک اور سندھ سے دکھن تک کوئی شخص برٹش گورنمنٹ سے جہاد نہیں کر سکتا۔برٹش گورنمنٹ عادل ہے اور خیر خواہ دامن جوئے عامہ خلائق ہے وغیرہ وغیرہ " - اہلحدیث کے تیسرے لیڈر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا۔عمدہ وامن والوں سے لڑنا ہر گز شرعی جہاد ( ملکی ہو خواہ مذہبی) نہیں ہو سکتا بلکہ عناد و فساد کہلاتا ہے مفسدہ ۱۸۵۷ء میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے وہ سخت گناہگار اور بحکم قرآن و حدیث وہ مفسد دباغی بد کردار تھے۔اکثر ان میں عوام کالانعام تھے بعض جو خواص و علماء کہلاتے تھے۔وہ بھی اصل علوم دین ( قرآن و حدیث) سے بے بہرہ تھے یا نا فم و بے سمجھ۔باخبرو سمجھ دار علماء اس میں ہر گز شریک نہیں ہوئے اور نہ اس فتویٰ پر جو اس غدر کو جہاد بنانے کے لئے مفسد لئے پھرتے تھے انہوں نے خوشی سے دستخط کئے۔یہی وجہ تھی کہ مولوی اسمعیل دہلوی جو حدیث و قرآن سے باخبر اور اس کے پابند تھے۔اپنے ملک ہندوستان میں انگریزوں سے (جن کے امن و عہد میں رہے تھے ) نہیں لڑے اور نہ اس ملک کی ریاستوں سے لڑے ہیں۔اس ملک سے باہر ہو کر قوم سکھوں سے (جو مسلمانوں کے مذہب میں دست اندازی کرتے تھے کسی کو اونچے اذان نہیں کہنے دیتے تھے) لڑے"۔خلیفتہ المسلمین ترکی اور غد ر۱۸۵۷ء میں بلاشبہ غدر ۱۸۵۷ء کے محرک نہ تو مسلمان تھے اور نہ اس زمانہ کے مقتدر اور مستند علماء نے اسے کبھی جہاد قرار دیا۔اور بعد کو اسے جو اس نام سے یاد کیا گیا۔یہ بھی ہندو کی ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے ۱۸۵۷ء کے واقعات پر غور کرنے کا ایک اور نقطہ نگاہ بھی ہے اور وہ یہ کہ بیرونی حکومتوں میں سے سب سے بڑی اسلامی سلطنت ان دنوں ترکی تھی جس کے بادشاہ سلطان عبد الحمید ثانی نے جو مسلمانان عالم کے مذہبی لیڈر ہونے کی وجہ سے خلیفتہ المسلمین مانے جاتے تھے۔اس موقعہ پر مسلمانان ہند کو سلطنت برطانیہ کا ساتھ دینے اور اس کی وفادار رعیت رہنے کا مشورہ دیا۔چنانچہ مرتضی احمد خاں " تاریخ اقوام عالم " میں لکھتے ہیں۔” خلیفہ نے اس مضمون کا فتویٰ لکھ کر انگریزوں کو دے دیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو انگریزوں سے نہیں لڑنا چاہئے کیونکہ وہ خلافت اسلامیہ کے حلیف و ہمد رو ثابت ہو چکے ہیں "۔۲۳