تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 337
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۳۲۳ مسلمانوں کا بہت روزوں سے آپس میں سازش اور مشورہ کرنا اس ارادے سے کہ ہم باہم متفق ہو کر غیر مذہب کے لوگوں پر جہاد کریں اور ان کی حکومت سے آزاد ہو جا ئیں نہایت بے بنیا دبات ہے جبکہ مسلمان ہماری گورنمنٹ کے مستامن تھے۔کسی طرح گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے۔میں تمہیں برس پیشتر ایک بہت بڑے نامی مولوی محمد اسمعیل نے ہندوستان میں جہاد کا وعظ کہا اور آدمیوں کو جہاد کی ترغیب دی اس وقت اس نے صاف بیان کیا کہ ہندوستان کے رہنے والے جو سرکار انگریزی کے امن میں رہتے ہیں۔ہندوستان میں جہاد نہیں کر سکتے اس لئے ہزاروں آدمی جہادی ہر ایک ضلع ہندوستان میں جمع ہوئے اور سرکار کی عملداری میں کسی طرح کا فساد نہیں کیا اور غربی سرحد پنجاب پر جا کر لڑائی کی اور یہ جو ہر ضلع میں پاجی اور جاہلوں کی طرف سے جہاد کا نام ہوا اگر ہم اس کو جہاد ہی فرض کریں تو بھی اس کی سازش و صلاح قبل دسویں مئی ۱۸۵۷ء مطلق نہ تھی۔غور کرنا چاہئے کہ اس زمانے میں جن لوگوں نے جہاد کا جھنڈا بلند کیا ایسے خراب اور بد رویہ اور با اطوار آدمی تھے کہ بجز شراب خواری اور تماش بینی اور ناچ اور رنگ دیکھنے کے کچھ وخلیفہ ان کا نہ تھا۔بھلا یہ کیونکر پیشوا اور مقتداء جہاد کے گنے جاسکتے تھے ؟ اس ہنگامے میں کوئی بات بھی مذہب کے مطابق نہیں ہوئی۔سب جانتے ہیں کہ سرکاری خزانہ اور اسباب جو امانت تھا اس میں خیانت کرنا ملازمین کو نمک حرامی کرنی مذہب کی رو سے درست نہ تھی صریح ظاہر ہے کہ بیگناہوں کا قتل علی الخصوص عورتوں اور بچوں اور بڑھوں کا۔مذہب کے بموجب گناہ عظیم تھا۔پھر کیونکر یہ ہنگامہ غدر جہاد ہو سکتا تھا؟ ہاں البتہ چند بد ذاتوں نے دنیا کی طمع اور اپنی منفعت اور اپنے خیالات پورا کرنے اور جاہلوں کے بہکانے کو اور اپنے ساتھ جمعیت جمع کرنے کو جہاد کا نام لے دیا۔پھر یہ بات بھی مفسدوں کی حرمزدگیوں میں سے ایک حر مزدگی تھی نہ واقع میں جہاد۔دلی میں جو جہاد کا فتویٰ چھپاوہ ایک عمدہ دلیل جہاد کی سمجھی جاتی ہے مگر میں نے تحقیق سنا ہے اور اس کے اثبات پر بہت دلیلیں ہیں کہ وہ محض بے اصل ہے میں نے سنا ہے کہ جب فوج نمک حرام میرٹھ سے دلی میں گئی تو کسی نے جہاد کے باب میں فتویٰ چاہا سب نے فتویٰ دیا کہ جہاد نہیں ہو سکتا۔اگر چہ اس پہلے فتوے کی میں نے نقل دیکھی ہے۔مگر جبکہ وہ اصل فتویٰ معدوم ہے تو میں اس نقل کو نہیں کہہ سکتا کہ کہاں تک لائق اعتماد کے ہے مگر جب بریلی کی فوج دلی میں پہنچی اور دوبارہ فتویٰ ہوا جو مشہور ہے اور جس میں جہاد کرنا واجب لکھا ہے بلاشبہ اصلی نہیں چھاپنے والے اس فتوے نے جو ایک مفسد اور نهایت قدیمی بدذات آدمی تھا جاہلوں کے بہکانے اور ورغلانے کو لوگوں کے نام لکھ کر اور چھاپ کر اس