تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 331
تاریخ احمدیت جلد ۶ ٣١ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا کی ہے کام نہ لو گے اور ساری دنیا کو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ہلانہ دو گے اور دنیا کو فتح کرنے کے لئے ابھی سے تیار نہ ہو جاؤ گے تو بھی اپنی موت کا آپ فتوی دو گے"۔اس کھلے انذار و انتباہ کے صرف تین چار سال بعد جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفت کا ایک ایسا زبر دست طوفان اٹھنا شروع ہوا جس نے بہت جلد نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس سے پہلے احمدیت کے خلاف انفرادی جد و جہد ہوا کرتی تھی اور وہ بھی زیادہ ترمذ ہبی حلقوں میں لیکن اب کانگریس اور حکومت دونوں نے جماعت احمدیہ کو کچل دینے اور صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا فیصلہ کر لیا اور ہر جگہ فتنہ کی ایک آگ لگادی اور خدا کے مامور کی جماعت کا عرصہ حیات تنگ کر دیا اور جبرو تشدد اور ظلم و ستم اور جو رو جفا کی انتہا ہو گئی۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں یہ دور بڑے خوفناک زلزلہ کی حیثیت رکھتا ہے جس نے ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دو سرے سرے تک بسنے والے ایک ایک احمدی کو ہلا دیا۔ایک قیامت تھی جو نمودار ہوئی ایک حشر تھا جو بپا ہوا!!! ہندو راج کے منصوبے اور قومیت متحدہ " کافتنہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں مذہبی جماعتوں کی پشت پناہی کے لئے کانگریس اور حکومت انگریزی کے افسروں کا گٹھ جوڑ کیوں ہوا؟ کس طرح ہوا اور اس سلسلہ میں کون کون سے افراد یا جماعتیں آلہ کار بنیں؟ ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی سازش ان وجوہ و اسباب کا سراغ لگانے کے لئے ہمیں ۱۸۱ء سے ملکی حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ہندوستان میں اکثریت ہندو قوم کی تھی۔جو مسلمانوں کے ہزار سالہ عہد حکومت کے فیاضانہ سلوک پر سیر چشمی اور دریا دلی کے باوجود اند رہی اند رہندوستان میں پھر سے خالص ہندو راج کے منصوبے سوچتی آرہی تھی۔۱۸۵۷ء میں ہندوؤں نے ملک پر قبضہ کر کے مسلمانوں کو مستقل طور پر محکوم و اسیر بنانے کے لئے بغاوت کرادی۔یہ بغاوت اگر چہ بظاہر ایک غیر ملکی (انگریزی) حکومت سے نجات پانے کی غرض سے تھی مگر اس کے پیچھے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے غلام بنانے کی سازش بھی کار فرما تھی۔وجہ یہ کہ ہندوؤں کی نگاہ میں مسلمان اور انگریز دونوں ملیچھ اور قابل نفرت اور اچھوتوں بلکہ چماروں سے بھی بد تر تھے۔جن کا وجود ان کے لئے ناگوار اور ناقابل برداشت تھا۔جیسا کہ پنڈت مدن موہن مالویہ ( کانگریس کے سابق صدر) نے ایک بار کہا۔