تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 327
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ٢٠٣- الفضل ۵/ جون ۱۹۷۳ء صفحه ۳-۴- ۶۰۴- ایسٹ افریقہ سٹینڈرڈ نیروبی ۱۳/ اکتوبر ۱۹۷۴ء ۲۰۵- الفضل ۲۰ مارچ ۱۹۵۷ء صفحه ا- ٧٠٦ الفضل ۲۱ / جون ۱۹۵۷ء صفحہ ۳۔۶۰۷ - الفضل یکم مارچ ۱۹۵۸ء صفحہ ۳۔۶۰ - الفضل ۲/ جون ۱۹۵۷ء صفحہ ۱۔٢٠٩- الفضل ۹/ ایریل ۱۹۵۸ء صفحه ۴ الفضل سو/ جنوری ۱۹۵۹ء صفحه ۵- الفضل ۸ / مئی ۱۹۶۲ء صفحه ۰۳ - ٣١٣ خط کا مکمل متن ۱۴/ اپریل ۱۹۶۰ء کے الفضل صفحہ ۳ میں شائع شدہ ہے۔۱۳ دی سنڈے پوسٹ نیروبی ۹ / مارچ ۱۹۶۰ء بحواله الفضل ۱۴ / ابريل ۱۹۷۰ء ۶۱۴ - الفضل ۲۵/ ستمبر ۱۹۷۴ء۔۱۵ - الفضل ۵/ جون ۱۹۷۳ء صفحه ۳-۴- یاد رہے کہ ڈاکٹر گراہم افریقہ میں جہاں بھی گئے احمدی مبلغوں نے ان کا پورا پورا تعاقب کیا۔جناب مولوی نور محمد صاحب نسیم سیفی (رئیس التبلیغ مغربی افریقہ) نے لیگوس میں بلی گراہم صاحب کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔مگروہ اسے منظور کرنے کی جرات نہ کر سکے۔جس کا ذکر امریکہ کے یونیٹیرین فرقہ کے لیڈر جیک فیڈ لسان نے اپنی تصنیف RELIGION IN AFRICA TODAY" کے صفحہ ۲۳ اور ۹۶ پر کیا ہے۔- مشرق لاہور ۱۸/ اکتوبر ۱۹۹۳ء صفحه ۳- ۶۱۸- الفضل ۶/ اکتوبر ۱۹۵۷ء صفحہ ۴۔- تانگانیکا / دسمبر ۱۹۶۱ ء میں اور یوگنڈا / اکتوبر ۱۹۶۲ء کو آزاد ہوئے۔۶۲۰ - یہ مشن مولوی مقبول احمد صاحب ذریج کے ذریعہ مارچ ۱۹۶۳ء میں جاری ہوا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ یوگنڈا کے یہ تمام افریقی معلم محض آنریری طور پر تبلیغ کرتے ہیں۔۶۲۲۔رپورٹ صیغہ جات صد را انجمن احمدیہ قادیان یکم مئی ۱۹۳۴ لغایت ۱۳۰ اپریل ۱۹۳۵ء صفحه ۶۱- ۶۲۳- آنحضرت ﷺ کی سیرت و سوائن جو دیا چہ قرآن کریم (مولفہ حضرت امیر المومنین المصلح الموعود) سے ماخوذ ہے۔۶۲۴۔ہم خواجہ ضیاء الدین صاحب گنائی آف نیروبی (انجمن حمایت اسلام کے سرگرم کارکن کا ایک بیان درج کرنا ضروری سمجھتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ دوسرے اسلامی فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے مشرقی افریقہ میں تبلیغ کے لئے کہاں تک اپنی ذمہ داری کا احساس فرمایا ہے۔کینیا کے مسلمان اپنے علاقہ میں تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے سلسلہ میں پاکستان کے علماء کرام کو اکثر اوقات دعوت دیتے رہتے ہیں وہ لوگ ان علماء کرام کی آمد و رفت کے جملہ مصارف کا بھی ذمہ اٹھاتے ہیں لیکن یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ بعض علماء کرام وعدہ کر کے بھی وہاں تک جانے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے ہیں۔مجھے ان علماء کرام کے نام یاد ہیں کینیا کے مسلمانوں نے جنہیں بذریعہ ہوائی جہاز آمد و رفت کا کرایہ اور دیگر اخراجات دینے کا یقین دلایا۔اس پر وعدہ کے باوجود وہ حضرات کیفیا نہ جاسکے۔اور لوگ ان کے انتظار میں دیدہ و دل فرش راہ کئے رہے۔(مجلس احرار اسلام کا آرگن روزنامہ نوائے پاکستان لاہور ۱۵ ار جولائی ۱۹۵۷ء) غیر از جماعت علماء کی اس سرد مری اور بے التفاتی کے مقابل اب مجاہدین احمدیت کے اسلامی کار ناموں کا تذکرہ دوسروں کے قلم سے متن میں مطالعہ کیجئے۔۶۳۵- صفحہ ۲۰۴ یہ کتاب میکر مرے یونیورسٹی میں بی۔اے کے نصاب میں شامل ہے۔