تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 13
تاریخ احمدیت جلد ۲ ہے کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جسے دیوانہ نہ کیا گیا ہو اور جب ہم نے ان کا ورثہ پایا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں دیوانہ نہ کہا جائے۔دیوانگی ہی دراصل حقیقی فرزانگی عطا کرتی ہے اور جنون ہی اللہ تعالی کی محبت کو کھینچتا ہے یہ ایک قسم کی دیوانگی ہی ہے کہ ایسے شدید دشمنوں کے پاس انسان تبلیغ کے لئے جائے جو ممکن ہے ماریں یا کوئی جھوٹا مقدمہ ہی بنا دیں۔مگر بہر حال یہ دیوانگی ایسی ہوتی ہے کہ دوسروں کے دلوں میں بھی بیداری پیدا کرتی ہے بعض جگہ دوسرے لوگوں سے بھی دیوانگی ہوئی جو ہمارے لئے فائدہ کا موجب بن گئی۔ایک جگہ ہمارے آدمی گئے تو ان میں سے ایک نے اس مکان میں جہاں وہ جا کر بیٹھے باہر سے کنڈی لگادی تا دوسرے لوگ آکر ان کی باتوں کو نہ سن سکیں۔لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے اپنے پانچ سات آدمی جو وہاں پہلے موجود تھے ان کو خوب تبلیغ کی گئی۔کنڈی باہر سے لگی رہی اور وہ مجبور آ بیٹھے سنتے رہے۔میں سمجھتا ہوں اس وقت کی تبلیغ بھی زیادہ موثر ہوئی ہوگی۔اگر ہمارے آدمی کی طرف سے کنڈی لگائی جاتی تو ان پر اور قسم کا اثر ہو تادہ اسے شرارت پر محمول کرتے اور بھڑک جاتے لیکن جب ان کے اپنے آدمی کی طرف سے ایسا ہوا تو ہمارے مبلغین پر غصہ نہیں ہو سکتے تھے بلکہ ان سے گو نہ ہمدردی پیدا ہوئی ہوگی تو کچھ دیوانگی ہم سے بھی ہونی چاہئے تھی اور وہ یہ کہ شدید مخالفوں کے گھروں میں جاتے۔مثلاً مولوی ظفر علی - مولوی ثناء اللہ - مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہ اور ایسے مخالفوں کے مکانوں پر پہنچ کر انہیں تبلیغ کرتے لیکن بہر حال اس سے جو نتائج نکلے ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ بہت ہی مفید چیز ہے "۔دوسرا يوم التبليغ لسلہ دوسرا یوم التبلیغ جو غیر مسلموں کے لئے مقرر کیا گیا تھا بڑی شان و شوکت سے اگلے سال ۵/ مارچ ۱۹۳۳ء کو منایا گیا اور احمدیوں نے ہندوؤں ، سکھوں اور عیسائیوں اور اچھوتوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے پورا دن وقف کیا۔قادیان میں اس تقریب پر صبح سوا آٹھ بجے کے قریب حضور نے تبلیغ پر جانے والوں کو بیش قیمت ہدایات دیں۔اور دعا سے رخصت کیا۔قادیان کے چھوٹے بڑے اصحاب کے قریباً ساٹھ وفود قادیان کے گردو نواح کے دس میل کے حلقہ میں تمام دن مصروف تبلیغ رہے۔اس کے علاوہ قادیان کے مقامی غیر مسلموں کے گھروں اور دکانوں میں جا کر آنحضرت ﷺ کا پیغام پہنچایا اور ایک تبلیغی پوسٹر اور ۱۵-۱۷ مختلف تبلیغی ٹریکٹ قادیان اور بیرو نجات کے لکھے پڑھے لوگوں میں تقسیم کئے گئے۔چھوٹے بچوں کا ایک جلوس نکالا گیا۔دوپہر کے وقت لوکل کمیٹی کی طرف سے قادیان کے دو سوا چھوتوں کو ہائی سکول کے ہال میں دعوت طعام دی گئی جس میں حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی، میاں عبد السلام صاحب عمر مرحوم اور مولوی محمد سلیم صاحب فاضل نے تقریریں کیں۔شام کے وقت چالیس کے قریب ہندو اور سکھ