تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 297
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۸۳ کرسی صدارت چھوڑ کر چل دیئے اور پولیس نے مناظرہ بند کروا دیا - 17 مناظرہ فیروز والا ( ضلع گوجرانوالہ) ۲۵-۲۲ / مئی ۱۹۳۴ء کو ملک عبدالرحمن صاحب خادم نے سائیں لال حسین صاحب اختر اور مولوی محمد حسین صاحب کو لو تار روی سے اور مولوی محمد نذیر صاحب مولوی فاضل نے مولوی محمد چراغ صاحب سے مناظرہ کیا۔خادم صاحب کی سحر بیانی اور حاضر جوابی نے اپنوں اور بیگانوں سے خراج تحسین حاصل کیا۔اس کے مقابل خود ارکان اہلسنت نے اپنے ایک مناظر کی نسبت اس خیال کا اظہار کیا کہ اگر ان کی اس بے بضاعتی کا ہمیں پہلے علم ہو تا تو ان کو بطور مناظر کبھی نہ بلواتے - a مناظرہ حافظ آباد (نمبر ۲) اسی سال حافظ آباد میں دوسرا مناظرہ ۲۷/ مئی ۱۹۳۲ء کو ہوا۔احمدیوں کی طرف سے حافظ مبارک احمد صاحب اور ملک عبد الرحمن صاحب خادم اور اہلسنت و الجماعت کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب کو لو تار روی اور لال حسین صاحب اختر شامل ہوئے۔میدان مناظرہ میں موخر الذکر غیر احمدی مناظر نے اپنی خوش کلامی کا خوب مظاہرہ کیا۔اور رہی سہمی کسر اہلسنت والجماعت نے شور مچا کر اور تالیاں بجا کر پوری کر دی۔بحالیکہ شرائط مباحثہ میں خاص طور پر درج تھا کہ اول بحث دائرہ تہذیب کے اندر ہوگی۔دوسرے شور مچانے والا فریق شکست خوردہ سمجھا جائے گا۔مناظرہ ہنگو (ضلع کوہاٹ) ۲۵/ جون ۱۹۳۴ء کو مولوی چراغ دین صاحب نے صوبہ سرحد کے ۱۶۶۵ ایک مشہور معاند احمدیت سے کامیاب مباحثہ کیا - مناظرہ شہر نگر (ضلع لاہور) انہی ایام میں شیر نگر میں مولوی عبد اللہ صاحب اعجاز نے مولوی عبد القادر صاحب رو پڑی سے اور مولانا شیخ مبارک احمد صاحب فاضل نے مولوی محمد اسمعیل صاحب رو پڑی سے مناظرے کئے۔مناظرہ شاہ مسکین (ضلع شیخو پورہ) کیم جولائی ۱۹۳۴ء کو مولانا شیخ مبارک احمد صاحب فاضل نے عبد اللہ صاحب معمار امرتسری سے مباحثہ کیا۔معمار صاحب استہزاء اور ہنسی مذاق کے سوا کوئی معقول بات پیش نہ کر سکے۔مناظرہ دھاریوال ( نمبر (۲) اس سال کا یادگار اور معرکتہ الاراء مناظرہ ۲۸-۲۹/ جولائی ۱۹۳۴ء کو عیسائیوں کے مشہور تبلیغی مرکز دھار یوال میں ہوا۔جس نے کا سر صلیب کے شاگردوں کی دھاک بٹھادی مناظرے کے چار اجلاس ہوئے پہلے اجلاس میں مسئلہ کفارہ پر ملک عبد الرحمٰن صاحب خادم نے سادھو میلا رام صاحب سے مناظرہ کیا۔عیسائی مناظر صاحب کی تقریر بالکل سطحی اور عامیانہ